گولکنڈہ سے تعلق رکھنے والا عینک دنیا کا سب سے قیمتی چشمہ

   

ماہرین کا اندازہ ، عینک میں جڑے ہیرے کا ہراج کے ذریعہ 25 کروڑ روپئے حاصل
حیدرآباد۔16ستمبر(سیاست نیوز) گولکنڈہ سے تعلق رکھنے والے ہیروں میں کوہ نورکے بعد کئی ہیروں کے نام منظر عام پر آئے ہیں لیکن گذشتہ چند یوم کے دوران گولکنڈہ سے تعلق رکھنے والے 200 قیراط کے ہیرے کے عینک میں جڑے ہونے کے سبب ان کی قیمت 25 کروڑ حاصل ہوئی ہے اور مانا جا رہاہے کہ اب تک کی چشموں کی دنیا میں سب سے قیمتی چشمہ یہی ہے۔ 17ویں صدی کے ان دو چشموں کو آن لائن ہراج کیلئے پیش کیا گیا تھا اور ان چشموں کے ہراج سے 3.5ملین امریکی ڈالر حاصل ہوئے ہیں۔ 17ویں صدی کے ان چشموںکے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ یہ مغلیہ دور کے چشمے ہیں اور انہیں آن لائن ہراج کے دوران خریدنے والوں نے ان کا مشاہدہ کرنے کے بعد ان میں جڑے ہوئے ہیرے و جواہرات کو دیکھنے کے بعد خریدنے کا فیصلہ کیا ہے علاوہ ازیں ان چشموں کے سلسلہ میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہناہے کہ چشموں کے طرز پر تیار کئے گئے فریم میں ہیروں کے جڑے ہونے کے علاوہ ایک چشمہ میں 200 قیراط کا ہیرا جڑا ہوا ہے جس کا تعلق گولکنڈہ سے ہے۔ مسٹر ایڈورڈ گبس نے بتایا کہ ان چشموں میں مغلیہ دور کے زیورات کی جھلک نمایاں نظر آرہی ہے جو کہ ان چشموں کے قدیم اور تاریخی اہمیت کے حامل ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 17ویں صدی کے ہیرے جواہرات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ دونوں چشمہ اسی دور کے ہیں اور اس دور کی دستکاری سے وہ کافی ملتے جلتے ہیں ۔ ایڈورڈ گبس نے بتایا کہ اس دور میں ہیرے کے حصول کی صورت میں مغلیہ تاجدار کے پاس اسے لایا جاتاتھا اور وہ اپنی پسند کے اعتبار سے اس کا استعمال کیا کرتے تھے اسی لئے 200قیراط کے ان ہیروں کے متعلق بھی شبہات درست نہیں ہیں بلکہ ان کی تحقیق کو مزید بہتر انداز میں کرنے کی ضرورت ہے۔M