Wednesday , February 26 2020

’گولی مارو‘ نہیں کہنا چاہئے تھا، امیت شاہ کو شکست کے بعد افسوس

پارٹی قائدین کی غلطی سمجھ آئی، اپنی احمقانہ بات یاد نہیں

نئی دہلی ۔ 13 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو اب تاسف ہورہا ہے کہ دہلی اسمبلی کے انتخابی مہم کے دوران چند بی جے پی قائدین نے ’’گولی مارو‘‘ اور ’’انڈیا ۔ پاکستان میچ‘‘جیسے بیانات دیئے جو نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس ہوسکتا ہے پارٹی کی شکست کی ممکنہ وجوہات میں سے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بی جے پی انتخابات محض کامیابی یا شکست کے لئے نہیں لڑتی بلکہ چناؤ کے ذریعہ اپنے نظریہ کو پھیلانے پر یقین رکھتی ہے۔ شاہ نے ٹائمس ناو کے پروگرام میں کہا کہ گولی مارو جیسے بیانات نہیں دینا چاہئے تھا ۔ ہماری پارٹی اس طرح کے ریمارکس سے خود کو علحدہ کرتی ہے۔ شاہ سے بعض بی جے پی قائدین کے متنازعہ نعروں کے تعلق سے سوال کیا گیا تھا ۔ انہوں نے قبول کیا کہ بی جے پی کو شائد پارٹی کے بعض قائدین کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے شکست ہوئی ۔ ممکن ہے اس سے ہمارا پرفارمنس متاثر ہوا ۔ امیت شاہ نے کہا کہ دہلی الیکشن کے بارے میں ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا لیکن دعویٰ کیا کہ یہ چناؤ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) یا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کے بارے میں مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی سی اے اے کے تعلق سے مسائل پر ان سے بات کرنا چاہتا ہے ، ان کے دفتر سے وقت طلب کرسکتا ہے۔ ہم اندرون تین یوم وقت دیں گے۔ سی اے اے کی پرزور مدافعت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے قانون میں ایسی کوئی دفعہ نہیں ہے جو مسلمانوں کی شہریت چھین لے گی۔ اس قانون میں پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ستم زدہ غیر مسلم افراد کو ہندوستانی شہریت دینے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی مذہب کی بنیاد پر کسی سے تعصب نہیں برتا ۔ سی اے اے پر محض نکتہ چینی مت کیجئے بلکہ میرٹ کی اساس پر غور کیجئے ۔ سی اے اے نہ اینٹی مسلم ہے اور نہ اینٹی میناریٹی ۔ ’’میں کسی سے بھی ملاقات کرنے تیار ہوں لیکن بات چیت میرٹ پر ہونا چاہئے ۔ بدقسمتی سے کوئی بھی آگے بڑھ کر سی سی اے پر بات کرنے تیار نہیں ہے‘‘۔ امیت شاہ نے کہا کہ ابھی تک حکومت نے ملک بھر میں این آر سی کو متعارف کرانے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور واضح کردیا کہ جو کوئی نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کے دوران کاغذات دکھانے آمادہ نہیں ہے وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ این آر سی بی جے پی کا اپنے انتخابی منشور میں کیا گیا وعدہ ہے۔ سی اے اے کے خلاف جاری ایجی ٹیشن کے تعلق سے پوچھنے پر امیت شاہ نے کہا کہ ہر کسی کو پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن تشدد کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ جموں و کشمیر کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر کوئی بشمول سیاستداں نوتشکیل شدہ مرکزی علاقہ کا دورہ کرنے کے لئے آزاد ہیں ، جب کبھی وہ چاہیں اور کسی کی بھی نقل و حرکت پر تحدید نہیں ہے۔ تین سابق چیف منسٹروں فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی محروسی کے تعلق سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) لاگو کرنے کا فیصلہ مقامی نظم و نسق کا ہے۔ عمر عبداللہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ دیکھنا ہے عدلیہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ عمر عبداللہ کی بہن عدالت سے رجوع ہوئی ہے جہاں عرضی پر سماعت کل مقرر ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT