’گوڈسے‘ 30 جنوری کو پھر نمودار، جامعہ ملیہ کے نہتے اسٹوڈنٹ پر فائرنگ

,

   

۔72 سال قبل حق پرست گاندھی جی کو قتل کیا گیا تھا ۔ اس مرتبہ
CAA کے خلاف احتجاج کو تشدد سے ختم کرنے کی کوشش

جنونی کی فائرنگ پر پولیس خاموش تماشائی، حملہ آور گوپال گرفتار

نئی دہلی 30 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)بابائے قوم گاندھی جی نے اپنے ہمیشہ حق کیلئے جدوجہد کی ، یہاں تک کہ اپنی جان دے دی۔ وہ 72 سال قبل دہلی میں 30 جنوری کا دن تھا۔ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں جو کچھ پیش آیا، وہ کئی دہے قبل فرقہ پرست جنونی نتھو رام گوڈسے کے ہاتھوں ہلاکت خیز حرکت کی یاد دلا رہا ہے۔ دونوں واقعات میں مشترک گاندھی جی جیسی شخصیت تو نہیں اور نہ ہی گوڈسے کے ہاتھوں پیش آیا قتل ہے لیکن حق پرستی مشترکہ عنصر ہے۔ آج مسلمان شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف زائد از دیڑھ ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں جس میں انہیں غیر مسلم ابنائے وطن کا ساتھ مل رہا ہے۔ یہ اس لئے کہ سی اے اے کے خلاف مسلمانوں کا موقف غیر واجبی نہیں ہے۔ نیا قانون شہریت کھلے طور پر تعصب و تنگ نظری کا اظہار ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں CAA کے خلاف طلباء کے احتجاج کے موقع پر آج ایک شخص نے ہوا میں پستول لہرائی اور فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں اسٹوڈنٹ شاداب عالم کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔ فائرنگ سے قبل اس شخص نے پستول کو لہراتے ہوئے نعرہ لگایا ’’آزادی دے رہا ہوں، شاہین باغ کھیل ختم‘‘۔ احتجاج کے پیش نظر علاقہ میں پولیس کی بھاری جمعیت موجود تھی مگر پولیس نے پستول بردارکو دبوچا نہیں بلکہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ فائرنگ کے فوری بعد پولیس نے اسے گرفتار کرلیااور اس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پولیس کو خاطی شخص کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس واقعہ سے جامعہ ملیہ کے علاقہ میں دہشت پھیل گئی۔ سنسان سڑک پر پستول کے ساتھ وہ شخص اچانک نمودار ہوا جو ہلکے رنگ کے پینٹ اور گہرے رنگ کی جیکٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ اس نے پستول لہراتے ہوئے نعرے لگا نے شروع کردئے۔ ٹی وی چیانلس پر پستول بردار شخص کی گوپال کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ جامعہ ملیہ کی طالبہ آمنہ آصف نے بتایا کہ طلبہ پرامن احتجاج کے لئے ہولی فیملی ہاسپٹل کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ اچانک ایک شخص پستول کے ساتھ سڑک پر آیا اور نعرے لگاتے ہوئے اس نے فائرنگ کردی جس میں ایک طالب علم کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔ زخمی شاداب کو علاج کیلئے ایمس سے رجوع کیا گیا۔ ا س موقع پر میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ جامعہ ملیہ کے طلبہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آج یونیورسٹی سے گاندھی جی کی سمادھی راج گھاٹ تک مارچ نکالنا چاہتے تھے۔ پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی اور طلبہکو ہولی فیملی ہاسپٹل کے قریب روک دیا جو یونیورسٹی کے قریب ہی واقع ہے۔ طلبہ وہیں جمع ہوگئے اور پولیس واپس جاؤ کے نعرے لگانے لگے۔ پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا جن کی رہائی پر احتجاج ختم کردیا گیا۔