گٹکھا اور ممنوعہ تمباکو اشیاء پر پابندی کو ہائی کورٹ کا گرین سگنل

   

تاجرین کی درخواستیں مسترد، کورونا سے زیادہ گٹکھے سے اموات ، ججس کی رائے

حیدرآباد۔یکم ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے گٹکھا اور دیگر ممنوعہ تمباکو پراڈکٹس پر امتناع سے متعلق حکومت کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔ ہائی کورٹ میں حکومت کو بڑی راحت ملی جبکہ عدالت میں گٹکھا تاجرین کی جانب سے حکومت کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ 160 درخواستوں کو مسترد کردیا۔ اسٹیٹ فوڈ سیفٹی کمشنر نے تلنگانہ میں گٹکھا، پان مسالہ، کھینی اور دیگر تمباکو پراڈکٹس کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ چیف جسٹس ستیش چندرشرما اور جسٹس اے راج شیکھر ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ تمباکو اشیاء سے اموات کی تعداد موجودہ کورونا وباء سے زیادہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ پابندی سے متعلق حکومت کے فیصلہ میں ہائی کورٹ مداخلت نہیں کرے گی۔ کمشنر فوڈ سیفٹی نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ ایکٹ 2006 کی دفعہ 30(2) کے تحت تمباکو اشیاء کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، ڈسٹری بیوشن، ٹرانسپورٹیشن اور فروخت پر پابندی عائد کردی ہے جس میں گٹکھا، پان مسالہ شامل ہیں جن میں تمباکو اور نکوٹین کا استعمال ہوتا ہے۔ عدالت نے گٹکھا تاجرین کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا کہ تمباکو کوئی غذا نہیں ہے اور اسے فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر کیا جائے۔ عدالت نے تاجرین کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا جن کا کہنا تھا کہ گٹکھا اور دیگر اشیاء دراصل سگریٹ اور دیگر تمباکو اشیاء کے تحت آتے ہیں۔ اسے فوڈ سیفی قانون کے تحت شامل نہ کیا جائے۔ وزارت داخلہ اور وزارت صحت کے وکلاء کی بحث سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پابندی سے متعلق اعلامیہ عوامی مفاد میں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گٹکھا اور دیگر اشیاء کے استعمال سے عوام حلق اور دیگر اعضاء کے کینسر میں مبتلاء ہورہے ہیں اور تاجرین کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ حکومت کے فیصلہ سے کاروبار متاثر ہوا ہے۔ر