گیانواپی مندر یا مسجد نہیں، بلکہ بودھ مٹھ ہے، سپریم کورٹ میں بودھ مذہبی گرو نے دائر کی عرضی

   

نئی دہلی: گیانواپی مسجد معاملہ میں جمعرات کو اس وقت نیا موڑ آگیا، جب ایک بودھ مت کے ایک گرو نے عدالت عظمی میں عرضی داخل کی اور کہا کہ گیانواپی نہ تو مسجد ہے اور نہ ہی مندر، بلکہ وہ ایک بودھ مٹھ ہے ۔ انہوں نے عرضی میں بودھ مٹھ کو لے کر سروے کرائے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ بودھ مت کے گرو سمت رتن بھنتے کی طرف سے دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایسے مندر ہیں، جو بودھ مٹھوں کو توڑ کر بنائے گئے ہیں ۔عرضی کے مطابق گیانواپی میں پائے گئے ترشول اور سواستک نشان بودھ مذہب کے ہیں ۔ کیدارناتھ یا گیانواپی میں جس کو جیوتر لنگ بتایا جارہا ہے کہ وہ بودھ مذہب کے ستوپ ہیں اور اس لئے گیانواپی نہ مسجد ہے اور نہ مندر ہے، بلکہ وہ ایک بودھ مٹھ ہے۔ سمت رتن بھنتے نے ملک میں بودھ مٹھوں کی تلاش شروع کی ہے۔