نئی دہلی: گیان واپی مسجد کمیٹی پر سیول جج سینئر ڈیویژن کی عدالت نے 300 روپئے کا جرمانہ عائد کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انجمن انتظامات مسجد کمیٹی جو گیان واپی مسجد کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے، نے مسجد سے متعلق ایک مقدمہ میں اپنا وکیل مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے سماعت کو ملتوی کرنا پڑا۔ اس پر مدعی کے وکیل نے اعتراض درج کرایا تھا جس کے بعد عدالت نے انجمن انتظامات (مسجد کمیٹی) پر 300 روپئے کا جرمانہ عائد کردیا۔ دراصل آج مسجد سے متعلق ایک مقدمہ میں سماعت مقرر تھی لیکن مسجد کمیٹی کی جانب سے یہ کہتے ہوئے سماعت کو ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی کہ ان کے وکیل فی الحال تیار نہیں ہیں اور ا نہیں تیاری کیلئے وقت دیا جائے۔ اس پر مدعی کے وکیل نتیا نند رائے اور دیشرتنا سریواستو نے اعتراض درج کرایا۔ جس کے بعد فاسٹ ٹریک کورٹ نے مسجد کمیٹی پر 300 روپے کا جرمانہ عائد کرکے کیس کی اگلی سماعت 15 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔ قبل ازیں کچھ ہندوؤں کی جانب 25 مئی 2022 کو سیول جج سینئر ڈیویژن کی عدالت میں ایک درخواست دائر کرکے گذارش کی گئی تھی کہ ’مستقل حکم امتناعی کے ذریعہ مسلم فریق کو گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ میں آدی وشویشور کے جیوترلنگا کی پوجا، راگ بھگوگ اور آرائش میں رکاوٹ یا خلل پیدا کرنے سے روکا جائے۔