گیان واپی معاملے میں مسلم فریق کے دلائل ہوئے مکمل، مزید سماعت آج ہوگی

   

وارانسی: گیانواپی مسجد شرنگار گوری معاملے میں کل کی سماعت ختم ہوگئی۔ ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشویش کی عدالت میں مسلم فریق نے اپنے دلائل مکمل کیے اور دلیل دی کہ گیانواپی کیس میں عبادت گاہوں کا قانون (خصوصی دفعات) 1991 لاگو ہے۔ یعنی 1947 میں آزادی کے وقت مذہبی مقامات کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ قانونی مثالیں بھی پیش کی گئیں۔ جس میں کہا گیا کہ ہندو فریق کا کیس قابل سماعت نہیں ہے اسے خارج کیا جائے۔اس کے بعد ہندو فریق نے اپنی بحث شروع کی اور کہا کہ نماز پڑھنے سے کوئی جگہ مسجد نہیں ہوجاتی ہے۔ ہمارا کیس قابل سماعت ہے۔ گیانواپی کیس میں ورشپ ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ہے۔ دلائل سننے کے بعد ڈسٹرکٹ جج کی عدالت نے کہا کہ مزید سماعت بدھ کی دوپہر سے ہوگی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عدالت ہندو اور مسلم فریقین کے دلائل سن رہی ہے۔ اس سے قبل، سماعت 4 جولائی کو ہوئی تھی، جب مسلم فریق نے ہندو فریق کے 51 نکات پر اپنے دلائل پیش کیے تھے۔