کسے وکیل کریں ‘ کس سے منصفی چاہیں
حیدرآباد ۔ ریاست بھر میں سنسنی کا موجب بنے گینگسٹر نعیم عرف بھونگیر نعیم کے کیس میں ایک پہلو سامنے آیا ہے جو نعیم انکاونٹر سے بھی زیادہ سنسنی اور تعجب خیز موضوع بنا ہوا ہے ۔ نعیم کیس کی تحقیقات کیلئے قائم اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم نے آج ان تمام پولیس ملازمین کو کلین چیٹ دے دی جو نعیم کے ظلم و ستم میں شریک ہونے کے الزامات کا سامنا کررہے تھے ۔ ایس آئی ٹی نے نعیم کے ساتھ معاملہ داری اور تعلقات کے الزامات والے پولیس ملازمین کو الزامات سے بری کردیا اور تحقیقاتی رپورٹ میں انہیں بے گناہ قرار دیا ۔ ایس آئی ٹی کے اس اقدام پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جا رہی ہے ۔ فورم فار گوڈ گورننس نے رپورٹ پر اعتراض کیا ہے اور کہا کہ تحقیقات صحیح سمت نہیں کی گئیں ۔ فورم نے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور گورنر سوندرا راجن کو ایک مکتوب لکھا ہے ۔ فورم کا کہنا ہے کہ گذشتہ 4 سال سے جاری تحقیقات کے باوجود متاثرین کو انصاف نہیں ملا ہے اور نہ ہی خاطیوں کو سزا ملی ہے ۔ فورم نے تمام پہلوؤں کا تذکرہ کرکے کیس کی تحقیقات کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کلین چٹ پانے والے پولیس ملازمین میں ایڈیشنل ایس پیز ایم سرینواس راؤ ، ایم چندر شیکھر ڈی ایس پیز ، سی ایچ سرینواس ، ایم سرینواس راؤ ، جی پرکاش راؤ ، ٹی سائی منوہر ، ڈی وینکٹ نرسیا ، امریندر ریڈی ، تروپتنا ، انسپکٹرس میں مستان ، راج گوپال ، وینکٹیا ، سرینواس نائیڈو ، بی کشن ، ایس سرینواس راؤ ، کے وینکٹ ریڈی ، محمد مجید ، وینکٹ سوریہ پرکاش ، روی کرن ریڈی ، اور بلونتیا کے علاوہ نریندر گوڑ ، ای رویندر شامل ہیں ۔ جبکہ دیگر ملازمین میں ہیڈ کانسٹبل ، محمد سعادت میاں ، دنیش آنند اور کانسٹبل بلدایا کل 25 پولیس ملازمین شامل ہیں ۔