واشنگٹن۔23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک اعلی سطحی ہندوستانی امریکی اٹارنی نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ دنیا سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے کیوں کہ صرف اسی صورت میں دنیا کے لوگ اپنے حقوق (چاہے وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں) کا صحیح استعمال اور اس سے حقیقی طور پر استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کی ریاست جموں و کشمیر کے حالات کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا جہاں 70 سے زائد دن گزرچکے ہیں اور عوام اب تک خوفزدہ اور کاروبار ٹھپ ہیں۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ختم کردیا گیا۔ اٹارنی روی بترا نے یہ باتیں اس وقت کہیں جب جنوبی ایشیاء انسانی حقوق کے موضوع پر موصوف ایک کانگریشنل کمیٹی کے روبرو موجود تھے اور ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہ بیان دیا اور کہا کہ جب لوگ محض اس خوف سے اپنے مکانات سے باہر نکلنے سے قاصر ہوں کہ سرحد پار دہشت گردی جاری ہے اور کہیں وہ بھی اس کی زد میں نہ آجائیں تو پھر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حالات کتنے دھماکو ہیں اور دہشت گردی روز کا معمول بن گیا ہے۔ انسانی حقوق کا سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ ہر انستان پرامن طور پر زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسے اس حق سے محروم کردیا جائے تو انسانی حقوق کی سب سے بڑی پامالی ہے۔