متنازعہ کسان بل مودی حکومت کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا؟
نئی دہلی۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم کی زیر قیادت پانچ رکنی کانگریس گروپ جس وقت تشیل دیا تھا اس وقت ہی ان کی سیاسی دانشمندی اور گیم پلان کا اندازہ ہوچکا تھا۔ مودی حکومت سے وزیر فوڈ پراسیسنگ ہرسمرت کور کا استعفیٰ اسی گیم پلان کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ کسان بل کے خلاف تمام اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوئے ہیں تو این ڈی اے پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ سونیا گاندھی نے کانگریس کور گروپ تشکیل دیتے ہوئے مودی حکومت کے وضع کردہ 11 آرڈیننس کا جائزہ لینے اور پارٹی کی حکمت عملی کو تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سونیا گاندھی کو شعوری طور پر احساس ہوا تھا کہ اب مرکزی سطح پر سیاسی اتھل پتھل ہونے والی ہے۔ اگر پارٹی نے اس سیاسی اتھل پتھل اور این ڈی اے میں پھوٹ کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لے کر اس کی تیاری کرتے ہوئے حکمت عملی بنائی جائے تو کانگریس کے حق میں کامیابی کی راہیں کشادہ ہوسکتی ہیں۔ سونیا گاندھی کی اسی منصوبہ بندی کے نتیجہ میں شیوسینا کے بعد مودی حکومت کا دوسرا وکٹ بھی گرگیا۔ شیوسینا نے سب سے پہلے بی جے پی سے اتحاد توڑ لیا اور اپنے مرکزی وزیر کو ہٹالیا۔ شیوسینا برسوں سے بی جے پی کی اہم حلیف پارٹی تھی۔ شرومنی اکالی دل بھی بی جے پی کی دیرینہ رفیق رہی ہے۔ اس کی لیڈرہرسمرت کور کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ مودی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔ اگر کانگریس اس سیاسی تبدیلی کا درست فائدہ اٹھاسکتی ہے تو اس کا سیاسی موقف مضبوط ہوجائے گا۔ کانگریس کورگروپ کی قیادت چدمبرم کررہے ہیں۔ اس گروپ میں ڈگ وجئے سنگھ، امر سنگھ اور گورو گوگوئی رکن کی حیثیت سے شامل ہیں جبکہ جئے رام رمیش کنوینر ہیں۔ سونیا گاندھی اپنے میڈیکل چیک اپ کے لیے فرزند راہول گاندھی کے ہمراہ امریکہ روانہ ہونے سے قبل کانگریس گروپ تشکیل دینے کا اہم فیصلہ کیا تھا تاکہ مودی حکومت کے چار کلیدی آرڈیننس کی مخالفت کی جائے۔ اس سے واضح ہوگیا ہے کہ سونیا گاندھی نے بروقت سیاسی ضرب لگانے کی کوشش کی اور کامیاب رہیں۔
اس مسئلہ پر کانگریس مضبوطی سے ڈٹی رہی ہے۔ زرعی بل کے خلاف اب سارے ملک میں کسانوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔ خاص کر پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں کسان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ شرومنی اکالی دل کو بی جے پی سے برسوں کا ساتھ مہنگا پڑرہا ہے۔ اب وہ اپنی ریاست میں کسانوں کے غیض و غضب کا سامنا کرسکتی ہے۔ کانگریس کی حلیف پارٹی نیشنل کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار جو ہمیشہ کئی مسائل پر وزیراعظم مودی کی تائید کرتے رہے ہیں اس سے کانگریس کو مایوسی ہوا کرتی تھی لیکن اب شردپوار بھی کسانوں کے احتجاج کا نوٹ لیتے ہوئے مودی حکومت کی تائید نہیں کریں گے۔ اب وہ ڈبل گیم نہیں کھیل سکتے۔ کسانوں کا مسئلہ این سی پی کے لیے بھی اہم ہے۔ اکالی دل نے پہلے زرعی بل کی حمایت کی اور بعدازاں یوٹرن لے لیا۔ حالیہ مہینوں میں کسانوں کو کورونا وائرس کی وباء سے کافی نقصان ہوا ہے۔ یہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، اسی لیے اکالی دل نے وزیراعظم مودی کو کنارے کرکے اپنی سیاسی بقاء کی فکر میں لگی ہوئی ہے۔ کانگریس گروپ نے 3 آرڈیننس کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے اور صدفیصد ان میں سے دو آرڈیننس زرعی مارکٹنگ سے تعلق رکھتے ہیں اور تیسرا آرڈیننس ضروری اشیاء قانون ترمیمی آرڈیننس کا ہے۔ یہ تینوں ملک کے غریب عوام اور کسانوں کے لیے اہم ہیں۔ کانگریس کسانوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سیاسی حکمت عملی کو مضبو بنائے گی۔ اپوزیشن پارٹیوں کو چارآرڈیننس کی مخالفت کے بارے میں وسیع تر مفاہمت کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس نے ایک اور آرڈیننس کی مخالفت کی ہے جو بینکنگ ریگولیشن ترمیم کے تعلق سے ہے۔ اس آرڈیننس سے دیہی علاقوں میں کوآپریٹیو بینکنگ سسٹم کمزور ہوجائے گا۔
زرعی غلبہ والی ریاستوں پنجاب، چھتیس گڑھ کے چیف منسٹروں نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب لکھ کر ان آرڈیننس کی مخالفت کی تھی۔ پنجاب اسمبلی نے بھی آرڈیننس کے خلاف قرارداد منظور کی تھی اس کے باوجود مودی حکومت نے آج بلوں کو منظور کرلیا۔ مودی حکومت کا مننا ہے کہ ان بلوں سے کسانوں کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوگا۔