نئی دہلی :ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔پارٹی میں ریاست میں برسر اقتدار آنے کی بھر پور توقعات رکھتی تھی لیکن اس کوحال ہی میں ختم ہونے والے ہریانہ انتخابات میں بی جے پی کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔ہریانہ میں اس کی شکست کے بعد، کانگریس کی مرکزی قیادت نے جمعرات کو دہلی میں اہم قائدین کا اجلاس منعقد کیا جس میں ریاست میں پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے پیچھے کی وجوہات اور شکست کے اسباب کا تجزیہ کیا گیا۔میٹنگ کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا ایم پی کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی نے ان وجوہات کا تجزیہ کیا جن کی وجہ سے زراعت کی اکثریت والی ریاست میں اس کی شکست ہوئی ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے ایک اور رہنما اجے ماکن نے کہا کہ نتائج حیران کن اور غیر متوقع ہیں۔ آج ہم نے ملاقات کی اور ان وجوہات کا جائزہ لیا جن کی وجہ سے ہریانہ میں شکست ہوئی۔ ہم اپنا تجزیہ جاری رکھیں گے۔یہ میٹنگ کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بھی ہریانہ کے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ میں شرکت کی۔ کانگریس نے عوام کیلئے اپنا کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔بی جے پی نے اقتدار کو برقرار رکھنے اور اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی واپسی کی کوشش کو روکنے کیلئے ہریانہ میں جیت کی ہیٹ ٹرک کی۔ بی جے پی نے 48 سیٹوں کے ساتھ اپنی بہترین کامیابی حاصل کی جو کہ کانگریس سے 11 زیادہ۔ جے جے پی اور عام آدمی پارٹی کو شرمناک شکست ہوئی ہے جبکہ آئی این ایل ڈی صرف دو سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ عام آدمی پارٹی نے تنہا الیکشن لڑا تھا۔کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، ہریانہ کانگریس کے سربراہ ادے بھان، پارٹی لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا، ریاستی انچارج دیپک بابریہ، ہریانہ کے مبصر اشوک گہلوت، اجے ماکن، پرتاپ سنگھ باجوہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق پارٹی ایم پی کماری سیلجا، رندیپ سنگھ سرجے والا اور کیپٹن اجے یادو میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ انہیں پارٹی قیادت نے مدعو نہیں کیا تھا۔یہ تمام ہریانہ کے اہم قائدین میں شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق شکست کے اسباب جاننے کیلئے حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی غور کیا گیا ہے ۔