ہریدوار دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کیس کے ملزم جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی کو ضمانت مل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے باقاعدہ ضمانت منظور کر لی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 2 ستمبر تک ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ خودسپردگی کر دیں پھر وہ باقاعدہ ضمانت پر سماعت کریں گے۔ مئی میں ملزم جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی کو راحت ملی تھی سپریم کورٹ نے تین ماہ کے لیے عبوری طبی ضمانت دی تھی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں یہ عہد دینا چاہئے کہ وہ نفرت انگیز تقریر نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک/ڈیجیٹل/سوشل میڈیا پر کوئی بیان نہیں دیں گے۔ عدالت نے وکیل وکاس سنگھ سے کہا کہ وہ رضوی کو مشورہ دیں کہ وہ نفرت انگیز تقریر میں ملوث نہ ہوں۔ معاشرے میں ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سماعت میں سپریم کورٹ نے مذاہب کی پارلیمنٹ میں نفرت انگیز تقاریر پر سوالات اٹھائے ہریدوار میں دھرم سنسد کے دوران نفرت انگیز تقریر کرنے کے ملزم جتیندر تیاگی عرف وسیم رضوی کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے تبصرہ کیا گیا کہ وہ سارا ماحول خراب کر رہے ہیں۔ رضوی کو جنوری میں نفرت انگیز تقریر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت نہ ملنے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔