ہر تین میں دو افراد اسمارٹ فون کے غلام

   

۔ 82 فیصد افراد کا روزانہ 4 گھنٹے آن لائن گذارنے کا اعتراف ، سروے کے حیرت انگیز انکشافات
حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : کورونا بحران سے عوامی زندگیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ وبا کے خوف سے عوام نے اپنا زیادہ تر وقت گھروں میں گذارا ہے ۔ جس کے نتیجے میں ہر تین میں دو افراد اسمارٹ فون کے غلام بن گئے ہیں ۔ نارتن لائف لاک ادارے کی جانب سے دنیا بھر میں کئے گئے سائبر سیفٹی سروے میں ہندوستان سے 66 فیصد عوام نے حصہ لیا ، کام ، تعلیم کے علاوہ روزانہ 4.4 گھنٹے زیادہ وقت آن لائن پر گذارنے کا 82 فیصد عوام نے اعتراف کیا ہے ۔ گھر میں رہ کر آن لائن استعمال کرنے والوں سے سروے کیا گیا جس میں ہندوستان سے 1000 افراد نے حصہ لیا جس میں ہر 10 افراد میں 8 افراد نے اعتراف کیا کہ کام اور تعلیم کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے زیادہ دیر تک ان لائن رہتے ہیں ۔ جس سے جسمانی طور پر صحت متاثر ہونے کا 74 فیصد عوام نے اعتراف کیا ہے ۔ 55 فیصد نے ذہنی صحت متاثر ہونے کا اعتراف کیا ہے جب کہ 76 فیصد عوام نے آن لائن رہنے والے وقت کو گھٹانے کے لیے گھر سے باہر نکلنے دوستوں کے ساتھ وقت گذارنے کی کوشش کرنے کا تذکرہ کیا ہے ۔ سروے میں اور بھی حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں 82 فیصد عوام نے اپنے خفیہ راز یا اطلاعات کے پاس ورڈس اپنے نام یا تاریخ پیدائش یا بیوی ، بچوں کے نام سے محفوظ ( سیو ) کرنے کا اعتراف کیا ہے ۔ ان میں نام کو پاس ورڈ بنانے والوں کا تناسب 69 فیصد ہے ۔ 58 فیصد افراد نے اپنی تاریخ پیدائش کو پاس ورڈس بنانے کا اعتراف کیا ہے ۔ 72 فیصد عوام وائی فائی روٹر کا سال میں ایک مرتبہ پاس ورڈ تبدیل کررہے ہیں ۔ 26 فیصد عوام مہینے میں ایک مرتبہ تبدیل کررہے ہیں جب کہ 9 فیصد عوام اپنے پاس ورڈس کو تبدیل ہی نہیں کررہے ہیں ۔ سروے میں حصہ لینے والے 84 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے ابھی تک اپنے بچوں کے ساتھ سائبر سیفٹی کے بارے میں کبھی بات نہیں کی ۔ 75 فیصد افراد نے آن لائن میں مصروف رہنے والے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا مشکل ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ 80 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ ان کے بچوں کو سائبر سیفٹی کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ضروری ہے ۔۔ N