ہلدوانی فسادات کے ملزمین کی ضمانت پرہائیکور ٹ کی حکومت سے جواب طلی

   

نینی تال :اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ہلدوانی فسادات کے ملزم جاوید صدیقی اور ارشد ایوب کی ڈیفالٹ ضمانت کے معاملے میں ریاستی حکومت سے دو ہفتوں میں اپنا اعتراض پیش کرنے کو کہا ہے ۔دونوں ملزمین کی جانب سے ہلدوانی کے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے ۔ اس معاملے میں جج منوج کمار تیواری اور جسٹس پنکج پروہت کی ڈبل بنچ میں سماعت ہوئی۔ اس معاملے کی سماعت 4 ستمبر کو ہوئی تھی لیکن حکم کی کاپی جمعہ کو ملی۔اپیل کنندگان کی جانب سے کہا گیا کہ ہلدوانی کے ایڈیشنل سیشن جج نے 3 جون 2024 کو ان کی ڈیفالٹ درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے ۔ اس کے علاوہ 90 دن گزر جانے کے بعد بھی ان کی تحویل کی مدت میں اضافہ کردیا ہے ۔مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن کورٹ نے پولیس جانچ کو بھی 90 دن گزر جانے کے باوجود توسیع کر دی ہے ۔
یہ بھی کہا گیا کہ انہیں سماعت کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ ہی تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کی کاپی فراہم کرائی گئی۔اپیل کنندگان کی جانب سے کہا گیا کہ 90 دن میں تفتیش مکمل نہ ہونے کی صورت میں وہ ڈیفالٹ ضمانت کے حقدار ہیں اور آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ان کا یہ بنیادی حق ہے ۔دوسری جانب حکومت کی طرف سے اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ نچلی عدالت نے قواعد کے مطابق تفتیش کی مدت میں اضافہ کیا ہے اور اسے ایسا کرنے کا حق ہے ۔ فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے حکومت سے دو ہفتوں کے اندر تحریری اعتراض داخل کرنے کو کہا ہے ۔ اس کیس کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔یہاں بتاتے چلیں کہ ملزمان پر فسادات، آتش زنی اور پتھراؤ کے معاملے میں رواں برس 8 فروری کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے ) کے ساتھ ہی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے ۔