واشنگٹن ۔ 27 فبروری (ایجنسیز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔وینس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں کسی طویل مدتی جنگ میں داخل نہیں ہو گا۔”واشنگٹن پوسٹ” اخبار کے مطابق انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ مذاکرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانی کیا کرتے ہیں۔اسی طرح وینس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ نہیں جانتے کہ ایرانی معاملے کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ کا فیصلہ کیا ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک امریکی عہدے دار نے “ABC” نیٹ ورک کے مطابق بتایا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی اختیارات کا جائزہ لیا ہے۔عہدے دار نے امریکی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مشترکہ آپریشن کا آپشن اب بھی ممکن ہے۔یہ پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ جمعرات کے مذاکرات امریکہ کے ساتھ کیے گئے بہترین مذاکرات تھے۔ انہوں نے نمایاں پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے سرکاری ٹیلی ویڑن پر انکشاف کیا کہ تکنیکی مذاکرات آئندہ پیر کو ویانا میں شروع ہوں گے۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنا اب قریب ہے۔اس کے باوجود، ایرانی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین ترجمان میجر جنرل ابوالفضل شکارچی نے جمعرات کو دھمکی دی کہ کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ فریقین (ایران اور امریکہ) نے مذاکرات کے مثبت نتائج کا اعلان کر رکھا ہے۔ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویڑن ایجنسی کے مطابق شکارچی نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو نفسیاتی جنگ اور بلیک میلنگ قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل تیاری کے ساتھ کسی بھی فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہی ہیں۔اسی طرح شکارچی نے اعلان کیا کہ ایرانی مسلح افواج اپنی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں پر بھروسہ کرتی ہیں … اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوج کی تمام نقل و حرکت کا باریک بینی کے ساتھ تعاقب کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر کئی دہائیوں سے جاری تنازع اب بھی موجود ہے۔