مہاراشٹرا میں داخلے سے سیاسی ہلچل، ملک میں کسانوں کی حکومت ضروری، شولا پور میں جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد۔/27 جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ بی آر ایس کسی بھی پارٹی کی اے ٹیم یا بی ٹیم نہیں ہے بلکہ وہ کسانوں، دلت ، بی سی اور غریبوں کی اے ٹیم ہے۔ مہاراشٹرا کے دو روزہ دورہ کے موقع پر شولا پور کے سرکولی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے بی جے پی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں بی آر ایس کی سرگرمیوں پر تنقید کی جارہی ہے۔ دونوں پارٹیوں کو بی آر ایس سے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس صرف تلنگانہ یا مہاراشٹرا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک قومی پارٹی کے طور پر ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی کام کرے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ مہاراشٹرا میں داخلہ کے بعد سے بی جے پی اور کانگریس ہمیں ایک دوسرے کی بی ٹیم قرار دے رہے ہیں۔ ہمیں کسی کی اے ٹیم یا بی ٹیم بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور ہم کسانوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کی بھلائی کیلئے اے ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں۔ بی آر ایس کا واحد مقصد مرکز میں کسانوں کی حکومت برسر اقتدار لانا ہے اور اب کی بار کسان سرکار کے نعرہ کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ مہاراشٹرا کی سیاسی پارٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ گذشتہ 75 برسوں میں مہاراشٹرا کے عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ تلنگانہ کی طرح ترقی اور فلاح و بہبود مہاراشٹرا میں ممکن کیوں نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیاں اپنی کامیابی کیلئے انتخابات لڑ رہی ہیں جبکہ عوام کی کامیابی سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ کانگریس نے 50 برسوں تک حکومت کی جس کے بعد این سی پی، شیوسینا اور بی جے پی بھی اقتدار میں رہ چکے ہیں لیکن کسان اور کمزور طبقات کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب تلنگانہ میں کسانوں کیلئے اسکیمات پر عمل کیا جاسکتا ہے تو مہاراشٹرا میں یہ ممکن کیوں نہیں جبکہ مہاراشٹرا ایک بڑی اور دولتمند ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بھلائی کے مقصد سے بی آر ایس نے کئی ریاستوں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا کے دو روزہ دورہ سے اپوزیشن پارٹیاں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ بی آر ایس نے گذشتہ 9 برسوں میں تلنگانہ کو ہر شعبہ میں ترقی کی راہ پر گامزن کیا جب تلنگانہ میں ترقی ممکن ہے تو پھر مہاراشٹرا میں کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کی الزام تراشی سے بے پرواہ ہوکر کسانوں کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ شولا پور کے سرکولی پہنچنے پر کے سی آر کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقامی عوامی نمائندوں نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ کے سی آر نے برقی، پانی اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی تکمیل میں تلنگانہ کے کارناموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں برقی بحران کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ کے سی آر نے مہاراشٹرا کے عوام کو یقین دلایا کہ تلنگانہ کی طرح اسکیمات پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ آبی پالیسی کو خلیج بنگال میں پھینکنے اور نئی پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں صلاحیتوں کے باوجود ملک میں جگہ جگہ چینا بازار قائم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہندوستان اپنی مصنوعات کی تیاری اور فروخت سے قاصر کیوں ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ زرعی شعبہ اور کسانوں کو مہاراشٹرا حکومت نے نظرانداز کردیا ہے۔ اورنگ آباد میں 8 دن میں ایک مرتبہ اور شولا پور میں 5 دن میں ایک مرتبہ پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں سیاہ فام افراد پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں لیکن امریکہ نے براک اوباما کو صدر منتخب کرتے ہوئے اعزاز بخشا ہے۔ ہندوستان میں بھی اس طرح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور کسانوں کی حکومت تشکیل ہونی چاہیئے۔ انہوں نے مہاراشٹرا میں تلنگانہ کی طرح دھرانی پورٹل متعارف کرنے کا مشورہ دیا۔ کے سی آر نے تلجا پور کے تلجا بھوانی مندر کے درشن کئے۔ قبل ازیں کے سی آر نے شولا پور کے وٹھل رکمنی مندر کے درشن کئے اور خصوصی پوجا کی۔ کے سی آر اور ان کے ساتھ موجود وزراء اور عوامی نمائندوں نے مقامی قائد بھگیرت بالکے کی جانب سے ترتیب دیئے گئے ظہرانہ میں شرکت کی۔ کے سی آر نے مہاراشٹرا میں اپنے دورہ کے دوسرے دن کو مقامی سطح پر پارٹی کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی طئے کرنے پر صرف کیا۔ واضح رہے کہ ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی و کونسل کے طویل قافلے کے ساتھ کے سی آر سڑک کے راستہ مہاراشٹرا پہنچے۔ر