کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنا زعفرانی پارٹی کا اولین مقصد ، انتخابی مہم کے لیے مودی ، امیت شاہ اور یوگی کو دعوت
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : مرکز میں حکمراں بی جے پی اس بات کی خواہاں ہے کہ ریاست تلنگانہ میں معلق اسمبلی آئے اور ساتھ ہی وہ اس موقف میں آجائے کہ مخلوط حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کرے ۔ بی جے پی کانگریس کے ساتھ تو اتحاد نہیں کرسکتی لیکن بی آر ایس کے ساتھ اس کے اتحاد میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی ( اگر بی آر ایس جادوئی عدد حاصل کرنے سے کافی دور رہتی ہے تب ) ریاست میں کسی نہ کسی طرح مخلوط حکومت کی خواہاں بی جے پی نے اب اپنی ساری قوت جھونک دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چنانچہ انتخابی مہم میں وہ اپنے تین اہم قائدین کو میدان میں اتار رہی ہے جو 25 سے زائد انتخابی جلسوں سے خطاب کر کے بی جے پی کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کریں گے ۔ واضح رہے کہ 30 نومبر کو ریاست کے تمام 119 حلقوں میں رائے دہی ہوگی اور 3 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ کم از کم 5 انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔ جب کہ پارٹی کے سب سے طاقتور و با اثر لیڈر وزیر داخلہ امیت شاہ 8-10 انتخابی جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے اپنے پارٹی کیڈر کا حوصلہ بڑھائیں گے ۔ اسی طرح بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے بارے میں بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم 10 جلسوں سے خطاب کرنے والے ہیں ۔ بی جے پی کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وزیراعظم ، امیت شاہ اور جے پی نڈا پورے زور و شور کے ساتھ تلنگانہ میں انتخابی مہم چلائیں گے ۔ جس سے بی جے پی کے عزائم و ارادوں کا پتہ چلتا ہے ۔ مودی اور نڈا کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں نومبر کے پہلے ہفتہ سے انتخابی مہم میں حصہ لیں گے ۔ ان کے ساتھ ساتھ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور کئی ایک مرکزی وزراء مختلف حلقوں میں خطاب کریں گے ۔ جہاں تک یوگی کا سوال ہے ان سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا نام تبدیل کرنے کا رونا روئیں گے ۔ جب کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کے بارے میں یہ اطلاع ہے کہ 27 اکٹوبر کو وہ سوریہ پیٹ میں خطاب کریں گے اور یوگی 31 اکٹوبر کو کسی انتخابی ریالی میں شرکت کرتے ہوئے زہر اگلیں گے ۔ تاہم وہ کہاں خطاب کریں گے اس بارے میں پروگرام جاری نہیں کیا گیا ۔ بی جے پی کچھ اس طرح منصوبہ بنا رہی ہے کہ ایک پارلیمانی حلقہ میں مودی ، امیت شاہ ، جے پی نڈا اور یوگی ضرور خطاب کریں گے ۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ بی جے پی قائدین سکندرآباد پارلیمانی حلقہ یا پھر چیف منسٹر کے حلقہ اسمبلی گجویل کے قریب بی سی گرجنا منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ بی جے پی نے حلقہ اسمبلی گجویل سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے مقابل ایٹالہ راجندر کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی جے پی قائدین کے مطابق بی سی گرجنا میں کم از کم 6 لاکھ لوگ شرکت کریں گے اور یہ ریالی ریاست میں بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں کارآمد ثابت ہوگی ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بی سی گرجنا میں بی جے پی عہدہ چیف منسٹری کے لیے کسی بی سی قائد کے نام کا اعلان کرے گی ۔ ہوسکتا ہے کہ سوریہ پیٹ میں امیت شاہ کی ریالی کو بی سی گرجنا میں تبدیل کیا جائے گا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ بی جے پی نے انتخابی مہم کے لیے ساری ریاست کو 6 زونس میں تقسیم کیا ہے جب کہ عظیم تر حیدرآباد کو علحدہ زون بنایا ہے ۔ سابق ضلع عادل آباد اور کریم نگر کو ایک زون میں رکھا گیا ہے ۔ سابقہ ضلع نظام آباد اور میدک پر مشتمل دوسرا زون ہوگا جب کہ نلگنڈہ اور کھمم پر مشتمل تیسرا زون ہوگا ۔ اسی طرح ورنگل اور نیا ضلع کتہ گوڑم چوتھا زون ہوں گے ۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کم از کم 30 حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے اور اسے یقین ہے کہ اگر اس کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو ریاست میں مخلوط حکومت ہوگی اور وہ اس حکومت میں شامل ہوگی ۔ بی جے پی قائدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کی دو سیڑھیاں ہیں جو کبھی نہیں مل سکتے ۔ ایسے میں ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنا اس کا پہلا مقصد ہے ۔ وہ ہرگز نہیں چاہے گی کہ کانگریس مجوزہ انتخابات میں 60 نشستیں حاصل کرے ۔ اس حکمت عملی میں راجہ ، کشن اور بنڈی ، اروند کا اہم کردار ہے ۔۔