Friday , November 22 2019

ہندوتوا لیڈر مقتول کملیش تیواری کی والدہ آدتیہ ناتھ یوگی پر برہم

ہر ممکنہ مدد کرنے چیف منسٹر یو پی کے تیقن کے باوجود مایوسی کا اظہار ، پولیس والوں نے ہمیں یوگی سے ملنے کیلئے زبردستی کی
لکھنؤ ۔ /20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر اترپردیش آتیہ ناتھ یوگی نے آج اپنی رہائش گاہ پر ہندوتوا کا مقتول لیڈر کملیش تیواری کے ارکان خاندان سے ملاقات کی اور انہیں مکمل تعاون کرنے کا تیقن دیا ۔ ان کے ساتھ انصاف کرنے کی بھی بات کہی لیکن مقتول کملیش تیواری کی والدہ کسم نے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ یوگی کے رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان پر کوئی بھروسہ نہیں کرسکتے ۔ چیف منسٹر یوگی پسماندگان کا بھروسہ جیتنے میں ناکام رہے ۔ کسم تیواری نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کے تیقن سے مطمئین نہیں ہے ۔ میں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف میں خود تلواری اٹھالوں گی ۔ اگر انہیں انصاف نہیں ملا تو وہ میدان میں خود اترجائیں گی ۔ انہوں نے پولیس پر بھی الزام عائد کیا کہ پولیس نے چیف منسٹر سے ملاقات کیلئے ہمیں عملاً زبردستی کی ۔ سوگ کے دوران خاندان والے اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتے لیکن پولیس والوں نے اپنے زبردستی کرکے چیف منسٹر کی رہائش گاہ چلنے کیلئے مجبور کیا ۔ یہ چیف منسٹر کی ہدایت تھی کہ پولیس والوں نے ہمیں چیف منسٹر سے ملنے کیلئے زور دیا ۔ اس لئے ہم لکھنؤ آئے ہیں ۔ کیا میں چیف منسٹر کی اس حرکت سے خوش ہوجاؤں جس نے ہمیں اپنے سوگوار گھر سے باہر لایا ۔ اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو میں خود تلوار اٹھالوں گی ۔ کسم تیواری نے مزید کہا کہ ہم نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ آخر میرے بیٹے کملیش کو دی گئی سکیورٹی کیوں ہٹالی گئی ۔ اس کا بہیمانہ قتل کیوں کیا گیا ۔

اس کے جواب میں چیف منسٹر کا ردعمل ہمارے توقع کے برخلاف تھا ۔ قبل ازیں چیف منسٹر سے ملاقات کے فوری بعد کسم تیواری نے کہا کہ وہ چیف منسٹر سے ملاقات پر مطمئین ہیں لیکن بعد ازاں انہوں نے کہا کہ ہم نے چیف منسٹر سے کہا کہ ہمیں انصاف چاہئیے ۔ میرے بیٹے کے قاتلوں کا پتہ چلاکر انہیں سخت سزاء دی جائے ۔ چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والوں میں کملیش تیواری کے ارکان خاندان شامل تھے جن میں ان کی اہلیہ کرن اور فرزندان بھی شامل ہیں ۔ یہ ملاقات تقریباً 30 منٹ تک رہی ۔ آدتیہ سے ملاقات کے بعد کملیش تیواری کی بیوی کرن نے کہا کہ انہیں اس ملاقات پر اطمینان ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے سوگوار خاندان کو تیقن دیا کہ پولیس اس کیس کی مکمل تحقیقات کرے گی اور خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔ ارکان خاندان نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ تیواری کے فرزند کو سرکاری ملازمت دی جائے اور تیواری کے خاندان والوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ لائسنس یافتہ اسلحہ بھی دیئے جائیں ۔ تیواری کے نام پر ایک کالونی موسوم کی جائے ۔ اسی دوران یو پی کے ڈائرکٹر جنرل پولیس او پی سنگھ نے کہا کہ ہوٹل کے عملہ کے مطابق قتل کے دن دو افراد نے اپنی شناخت شیخ اشفاق الحسین اور معین الدین پٹھان کی حیثیت سے کروائی تھی ۔ یہ دونوں زعفرانی کرتا پہن کر ہوٹل سے روانہ ہوئے تھے ان کے ہاتھوں میں مٹھائی کا ڈبہ بھی تھا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT