عالمی معیشت کا ایک تہائی حصہ رکھنے والے خطوں کو جوڑنے کی مساعی
نئی دہلی: ہندوستان، امریکہ، سعودی عرب اور یوروپی یونین نے ہفتہ کو جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک ملٹی نیشنل ریل اور بندرگاہ کے منصوبے کا اعلان کیا۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے اس اعلان کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر جو بائیڈن، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور یوروپی یونین کے قائدین کے ساتھ اس میگا انفراسٹرکچر ڈیل کا اعلان کیا۔اس ہندوستان۔ مشرق وسطی۔ یوروپ اقتصادی راہداری کے آغاز اور عالمی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لئے شراکتی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ اپنے دوست صدر جو بائیڈن کے ساتھ اس تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کافی خوشی ہورہی ہے۔ آج ہم سب نے ایک اہم اور تاریخی معاہدہ ہوتے دیکھا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ ہندوستان، مغربی ایشیا اور یوروپ کے درمیان اقتصادی انضمام کا ایک موثر ذریعہ بنے گا۔ اس سے پوری دنیا کی کنیکٹیویٹی اور پائیدار ترقی کو ایک نئی سمت ملے گی۔وہیں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یہ ایک بڑا سمجھوتہ ہے۔ یہ واقعی ایک بہت بڑی بات ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ ون ارتھ، ون فیملی، ون فیوچر یہی G20 چوٹی کانفرنس کی توجہ کا مرکز ہے اور کئی معنوں میں یہ اس شراکت داری کا مرکز بھی ہے جس کے بارے میں ہم آج بات کر رہے ہیں۔جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ پائیدار، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، معیاری انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر۔ انہوں نے کہا وہ آج ان کلیدی طریقوں کو اجاگر کرنا چا ہتے ہیں جو امریکہ اور ہمارے شراکت دار اس کو حقیقت بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں اقتصادی منصوبے کے حوالے سے کئے گئے اعلانات اور اقدامات کو یکجا کئے جانے کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم اقتصادی راہداری کے قیام کے لئے اس بنیادی قدم تک پہنچنے کے لیے ہمارے ساتھ کام کیا۔اس اہم منصوبے کا مقصد ہندوستان، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت کو فروغ دینا اور عالمی معیشت کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھنے والے خطوں کو جوڑنے کیلئے ایک جدید اسپائس روٹ قائم کرنا ہے۔