ہندوستان میں مسلمان مجموعی آبادی کا 15.6 فیصد

   

شرح پیدائش میں اضافہ ، لکشادیپ اور کشمیر پہلے و دوسرے نمبر پر ، تلنگانہ کو مسلم آبادی میں 10 واں مقام
حیدرآباد ۔19 ۔ فروری (سیاست نیوز) ملک میں 2026 تک مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں تجزیہ کے مطابق ہندوستان میں مسلمان جملہ آبادی کا 15.6 فیصد ہے۔ کئی ریاستوں میں مسلم آبادی میں اضافہ کا رجحان ہے۔ آبادی کے اعتبار سے لکشادیپ سرفہرست ہے جہاں مسلم آبادی 96.6 فیصد درج کی گئی ۔ جمہوں و کشمیر 68.5 فیصد کے ساتھ دوسرے اور آسام 35.2 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ مغربی بنگال کو 28.2 فیصد کے ساتھ چوتھا اور کیرالا کو 27.8 فیصد کے ساتھ پانچواں مقام حاصل ہے۔ 20.1 فیصد آبادی کے اعتبار سے اترپردیش چھٹواں ، بہار 17.5 فیصد کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔ جھارکھنڈ میں مسلم آبادی 15.2 فیصد ، کرناٹک 13.8 فیصد اور تلنگانہ 13.2 فیصد کے ساتھ علی الترتیب آٹھویں ، نویں اور دسویں نمبر پر ہیں۔ دہلی میں مسلم آبادی 13.1 جبکہ مہاراشٹرا میں 12.2 ، گجرات 10.1 فیصد ، ٹاملناڈو 6.2 فیصد ، آندھراپردیش 6.1 فیصد جبکہ ہریانہ میں 7.8 فیصد مسلم آبادی ہے۔ بہتر مسلم آبادی والی ریاستوں میں راجستھان 9.5 فیصد ، مدھیہ پردیش 7.2 فیصد ، اتراکھنڈ 14.5 فیصد ، منی پور 9.2 فیصد ، تریپورہ 8.8 فیصد ، گوا 8.8 فیصد ، انڈمان نکوبار میں 8.5 فیصد مسلم آبادی ہے۔ ہندوستان کا شمار دنیا کے تیسرے بڑے مسلم آبادی والے ملک میں ہوتا ہے۔ نیشنل فیملی سروے کے مطابق 2019-21 کے دوران مسلمانوں میں شرح پیدائش 2.36 فیصد درج کی گئی جبکہ اکثریتی طبقہ میں یہ شرح 1.94 فیصد درج کی گئی۔ 2050 تک ملک میں مسلمانوں کی آبادی 18 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے ۔1