ہندوستان کی تیل کی ضرورت کی تکمیل میں روس سرفہرست

   

سعودی عرب اور عراق دوسرے اور تیسرے نمبر پر ، مغربی ایشیاء کی جنگی صورتحال کے باوجود ہندوستان بحران سے محفوظ
حیدرآباد ۔27 ۔ مارچ (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں جنگ کی صورتحال نے دنیا کے کئی حصوں میں تیل اور گیاس کا بحران پیدا کردیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اور صرف دوست ممالک کے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت کے فیصلہ سے کئی مغربی ممالک نے امریکہ کی پالیسیوں کو کھل کر نشانہ بنایا ہے۔ ہندوستان نے اپنی روایتی خارجہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے گزشتہ 10 برسوں میں اپنے حقیقی دوستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سے دوستی کو بڑھاوا دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسی صاف طور پر امریکہ اور اسرائیل کے حق میں ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ملک میں تیل اور گیاس کے بحران پر قابو پانے میں روس ، سعودی عرب ، عراق اور متحدہ عرب امارات نے اہم رول ادا کیا ہے۔ امریکہ نے ہندوستان کو روس سے تیل کی خریدی سے منع کردیا باوجود اس کے موجودہ حالات میں ہندوستان کو خام تیل سربراہ کرنے والا روس پہلا ملک ہے۔ ہندوستان میں تیل کی خریدی میں روس کی حصہ داری 19.30 فیصد ہے جبکہ سعودی عرب 17.50 فیصد کے ساتھ دوسرے اور عراق 16.60 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ متحدہ عرب امارات سے ہندوستان 10.40 فیصد خام تیل حاصل کرتا ہے ۔ امریکہ سے 6.80 فیصد اور کویت سے 6.10 فیصد خام تیل کی خریداری ہے۔ ہندوستان کی تیل کی ضرورتوں کی تکمیل میں امریکہ کی کم حصہ داری کے باوجود وہ ہندوستان پر دباؤ بنارہا ہے کہ روس سے تیل کی خریداری روک دیں ۔ ہندوستان نے اس معاملہ کسی قدر مزاحمت کی جس کے بعد امریکہ نے روس سے تیل کی خریدی کی عارضی طور پر اجازت دے دی ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو آخرکار ایرانی قیادت سے ربط قائم کرنا پڑا جس کے بعد ایران نے تیل اور گیاس لے جانے والے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ ایران کا یہ فیصلہ مودی حکومت کی نہیں بلکہ ہندوستانی عوام کی کامیابی ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ اظہار یگانگت کرتے ہوئے اپنے طور پر امداد روانہ کی۔1