ہنگامہ آرائی کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

   

نئی دہلی : حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اہم اپوزیشن کانگریس کے ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے جمعرات کو راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔کھانے کے وقفے کے بعد جب ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے ایوان کی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی تو دونوں پارٹیوں کے ارکان نے شور مچانا شروع کردیا اور اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے ۔ ہری ونش نے دونوں پارٹیوں کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں اور ایوان کی کارروائی جاری رہنے دیں۔ ارکان پر اس کا کوئی اثر نہ ہوتے دیکھ کر انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔اس سے قبل صبح بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے اپنی سیٹ سے کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کے بیرون ملک دیئے گئے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، جبکہ اپنی نشست سے کانگریس کے ارکان نے اڈانی معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کرانے کے حوالے سے شوروغل کیا۔اس دوران ایوان کے لیڈر پیوش گوئل نے کہا کہ حزب اقتدار اوراختلاف کے درمیان ایوان کے کام کاج کو لے کر کوئی معاہدہ نہیں ہوپارہا ہے ۔ اسی دوران ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیوں، جنتا دل (یو)، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے اپنی نشستوں سے ایک ساتھ اونچی آواز میں بولنا شروع کردیا۔ ہنگامہ کے دوران قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے بھی کچھ کہا جسے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سنا نہیں جا سکا۔