نئی دہلی : کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے ہنر کو دریافت کرنے کے لیے دی جانے والی اسکالرشپ تین سال سے بند ہے ، جس کی وجہ سے ہنرمند نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے ، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی مہم کے لئے فنڈز کی کمی کو راہ میں نہیں آنے دیا جا رہا ہے ۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ یہ اسکالر شپ 60 سال سے دی گئی ہے لیکن پچھلے تین برسوں سے اس کی 40 کروڑ روپے کی رقم روک دی گئی ہے ، جب کہ اس سے کہیں زیادہ رقم مودی کی مہم پر خرچ کی گئی ہے۔ پرینکا نے کہاکہ وزیر اعظم کا پی آر ترقی کے وژن پر حاوی ہے ۔ ’نیشنل ٹیلنٹ ریسرچ ٹسٹ‘ اسکالرشپ، جو 1963 میں شروع ہوئی تھی، اس سے بہت سے بچوں کے مستقبل کی راہ ہموار ہوئی، وہ ملک کی ترقی میں حصے دار بن گئے اور ان کے لیے اچھی تعلیم کے دروازے کھل گئے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق یہ اسکالرشپ پچھلے تین برسوں سے روکی ہوئی ہے ، لیکن وزیر اعظم کی ذاتی تشہیر کے لیے پریکشا پر چرچہ جاری ہے ۔ تین برسوں میں اسکالر شپ پر 40 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، جبکہ 62 کروڑ روپے وزیراعظم کی پبلسٹی پر خرچ ہوئے ۔ وظائف کی بندش سے لاکھوں نوجوانوں کے روشن مستقبل کا راستہ بند ہوگیا، لیکن وزیراعظم کی پی آر بند نہیں ہوئی ۔