خوشبو دار مصالحوں سے گاہکوں کی خوشامدی ، بلدیہ میں اسٹاف کی قلت سے ہوٹل مالکین کا راج
حیدرآباد۔23اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں چلائی جانے والی ہوٹلوں میں فراہم کی جانے والی غذاء کس حد تک بہتر ہے اس کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کی جانب سے حالیہ عرصہ میں شہر کی کئی اہم ریستوراں میں کئے گئے دھاؤوں میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے کئی بڑے ریستوراں میں بھی ناقابل استعمال اشیائے خورد و نوش فریج میں رکھے ہوتے ہیں جو کہ بدبو دار ہونے کے باوجود استعمال کیلئے رکھے جاتے ہیں۔ اس بات کے انکشاف کے ساتھ جی ایچ ایم سی کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں موجود بیشتر ریستوراں میں جو صورتحال اس سے نمٹنے کیلئے جی ایچ ایم سی کے پاس عملہ کافی نہیں ہے جس کے سبب ہوٹلوں کے ذمہ داروں کی جانب سے من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں کئے گئے دھاؤوں میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود اشیائے خورد و نوش کے سرکردہ مراکز میں بھی ایسی اشیاء کا اسٹاک موجود ہوتا ہے جو ناقابل استعمال ہوجاتی ہیں لیکن ماہرین پکوان کی جانب سے ان اشیاء کو قابل استعمال اشیاء کی طرح خوشبودار مصالحہ جات کے استعمال کے ذریعہ تیار کرتے ہوئے گاہکوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ ہوٹلوں کے کچن کی صورتحال کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ جن لوگوں کو ہوٹلوں کے کچن کی حالت کا جائزہ لینے کا موقع مل جائے وہ ہوٹل میں کھانا کبھی پسند نہیں کرتے کیونکہ جو لوگ نفاست پسند ہوتے ہیں اور جنہیں اپنے کچن میں صفائی دیکھنی ہوتی ہے وہ لوگ ہوٹلوں کے کچن کو دیکھنے کے بعد وہاں تیار کی جانے والی اشیاء استعمال کرنے میں کراہیت محسوس کرنے لگتے ہیں۔جی ایچ ایم سی کی جانب سے ہوٹلوں اور ریستوراں کے لئے جو قوانین موجود ہیں
ان میں کچن کی صفائی کے علاوہ تیار کی جانے والی غذائی اشیاء کو صاف ستھرا رکھنے اور جن اشیاء میں بدبو یا سڑن پیدا ہوجائے اسے تلف کرنے کی ہدایات بھی شامل ہیں لیکن جی ایچ ایم سی کے پاس ناکافی عملہ کے سبب ہوٹلوں اور ریستوراں کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے اور اکثر ہوٹلوں اور ریستوراں میں صورتحال ہے اس کیلئے جی ایچ ایم سی ہی ذمہ دار ہے کیونکہ ناکافی عملہ اور موجودہ عملہ کی کارکردگی میں بہتری پیدا نہ ہونے کے سبب شہریوں کو ایسی غذائیں بھی کھانے کیلئے فروخت کی جانے لگی ہیں جنہیں فوری تلف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں شہروں میں موجود ریستوراں کی جانب سے پارسل میں ایسی اشیاء فروخت کی جانے لگی ہیں جو کہ ناقابل استعمال ہوجاتی ہیں اس بات کی شکایات بھی موصول ہورہی ہیں لیکن اس کے باوجود جی ایچ ایم سی کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے اور عملہ نہ ہونے کا استدلال پیش کیا جا رہاہے ۔