امجد اللہ خاں خالد کا انتخابی جلسہ عام سے خطاب ۔ حلقہ میں مختلف مقامات پر پیدل دورے
حیدرآباد 21 نومبر ( سیاست نیوز ) امیدوار مجلس بچاؤ تحریک حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ جناب امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ وہ حلقہ یاقوت پورہ کے عوام کی خدمت کے جذبہ سے انتخابی میدان میں آئے ہیں۔ وہ ناسازگار حالات کے باوجود اللہ تبارک و تعالی کے بھروسے میدان میںا ترے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالی انہیں حلقہ یاقوت پورہ سے کامیاب کریگا ۔ امجد اللہ خاں خالد نے اپنی انتخابی مہم کے سلسلہ میں کل پیر کی شام یاقوت پورہ بڑا بازار پر ایک زبردست جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ جلسہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے امجد اللہ خالد سے اظہار یگانگت کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین ان کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ صرف اور صرف غریب اور مظلوم عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے وہ ہمیشہ سے جدوجہد کرتے آئے ہیں اور آگے بھی کرتے رہیں گے ۔ امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ ایک رکن اسمبلی عوام کی کس طرح سے موثر اور بہترین خدمت انجام دے سکتا ہے وہ حلقہ یاقوت پورہ کے عوام کو بتائیں گے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس بار ان کی تائید کریںا ور گیاس سلینڈر کے نشان پر ووٹ ڈالتے ہوئے انہیں منتخب کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یاقوت پورہ میں ترقیاتی کاموں کے ذریعہ انقلاب برپا کردیں گے ۔ امجد اللہ خاں خالد اور صدر مجلس بچاؤ تحریک جناب مجید اللہ خاں فرحت نے آج منگل کو صبح 10 تا ایک بجے دن اور سہ پہر 3 بجے تا شام 6 بجے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے مختلف علاقوں کا پیدل دورہ کرتے ہوئے اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کی ۔ انہیں مجلس بچاؤ تحریک کے عوامی چارٹر اور خدمات کے منصوبوں سے واقف کروایا اور عوامی مسائل کو حل کرنے ہمیشہ جدوجہد کرنے کا تیقن دیا ۔ رائے دہندوں نے مختلف مقامات پر امجد اللہ خاں خالد اور جناب مجید اللہ خاں فرحت کا پرجوش استقبال کیا اور ان سے اظہار ہمدردی و یگانگت کرتے ہوئے 30 نومبر کو ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کا تیقن دیا ۔ کئی مقامات پر بزرگ مرد و خواتین نے جناب امان اللہ خاں مرحوم کو یاد کرتے ہوئے جناب مجید اللہ خاں فرحت اور جناب امجد اللہ خاں خالد کو دعاؤں سے بھی نوازا اور حلقہ یاقوت پورہ سے ان کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔ پیدل دوروں کے موقع پر عوام اور مجلس بچاؤ تحریک کے کارکنوں اور ہمدردوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔