یرغمالیوں کی رہائی کیلئے غزہ میں اسرائیل ایک اور عارضی جنگ بندی پر تیار

   

تل ابیب: اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ ہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے غزہ کی جنگ میں ایک اور وقفہ چاہتے ہیں۔ غیر ملکی سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی صدر نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی جنگ بندی کرکے اپنے یرغمال شہریوں کو رہا کروایا تھا دوبارہ سے جنگ بندی کرکے اپنے لوگوں کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔؎ دوسری جانب حماس غزہ میں مکمل جنگ بندی تک یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے امکان کو مسترد کرچکی ہے، حماس دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مکمل جنگ بندی تک یرغمالیوں سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ قطر اور مصر کی جانب سے غزہ میں نئی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، نئی جنگ بندی پربات چیت کے لیے قطری اور اسرائیلی حکام کی گزشتہ دنوں ملاقات بھی ہوئی تھی۔خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے، فلسطینی مزاحمتی فورسز کے جوابی حملوں میں کئی اسرائیلی فوجی مراکز تباہ ہوگئے جن میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، اسرائیلی فوج نے 17 فوجی افسران کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔