یزیدی بچے آج بھی داعش کے خوف میں مبتلا : ایمنسٹی

   

بغداد: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق میں اسلامک اسٹیٹ گروہ کے مظالم کا شکار ہونے والی یزیدی آبادی آج تک قتل عام، ریپ اور ٹارچر کے خوف سے نہیں نکل سکی۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے قبضے سے آزاد کرائے جانے والے لگ بھگ دو ہزار یزیدی بچے کی فلاح و بہود کو بظاہر نظر انداز کر دیا گیا اور وہ آج بھی نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا شکار ہیں۔ یزیدی برادری شمالی عراق میں مقیم ایک لسانی اور مذہبی اقلیت ہے۔ سال 2014میں اپنی پیشقدمی کے دوران داعش نے انہیں مرتد قرار دے کر انہیں زبردستی مسلمان کیا، ان کی خواتین اور بچیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا اور لڑکوں کو لڑائی میں استعمال کیا تھا۔