یورپ اور مسلم دنیا صیہونی جارحیت پر خاموش !

   

صرف مذمت ناکافی ، فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

یروشلم : یورپی ممالک ، امریکہ اور مسلم دنیا نے مسجد اقصیٰ پر صہیونی یلغار پر خاموشی اختیار کرکے زبانی مذت پر اکتفا کرلیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین کی وزارت خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مشرقی بیت المقدس میں جمعہ کے روز ہوئی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔ بیان میں یورپی ممالک کے وزرا ئے خارجہ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں ، تاکہ تشدد اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے۔ بیان میں مقدس مقامات کا احترام کرنے اور اردن سے قیام امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔ امریکہ کی جانب سے جاری بیان میں فلسطینی شہریوں پر طاقت کے استعمال کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم فریقین سے اشتعال انگیز کارروائیوں اور بیان بازی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ادھر سعودی عرب نے بھی مسجد اقصیٰ پر قابض اسرائیلی فوج کے دھاوے اور قبلہ اول کے دروازے نمازیوں کے لیے بند کرنے نہتے افراد پر گولیاں برسانے کی مذمت کی۔ وزارت خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والی تمام گزرگاہیں بند کردیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس بندش میں سیکورٹی کی صورتحال کے پیش نظر توسیع کی جا تی رہے گی۔ یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے صبح سویرے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر نفلی اعتکاف پر بیٹھے مسلمانوں اور جمعہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے آنے والوں پر فائرنگ کی تھی۔ جھڑپوں میں 250سے زئد افراد زخمی ہوئے تھے۔
32 سالہ شوفی نے بتایا کہ پولیس نے ان کا کمپیوٹر اور پرنٹر ضبط کر لیا۔ بعد میں اسکول کے تختہ سیاہ اور تپائیاں تک لے گئے اور اسکول کو تالا لگادیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسکول غیر قانونی ہے، کیوں کہ حکومت کی جانب سے اسے کوئی اجازت نامہ نہیں جاری کیا گیا۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہے کہ حکومت نے اسے زبانی اجازت دے رکھی ہے۔