یوکرین کا موجودہ لیڈر صدر پوٹن کی نظر میں دہشت گرد
یوکرین کے دارالحکومت کے کسی بھی وقت سقوط کا اندیشہ
روسی افواج کی دارالحکومت کی طرف پیشقدمی جاری
دونوں فریقوں کا ایک دوسرے کو جانی نقصان ہونیکا دعویٰ
ماسکو / کیف : روس نے یوکرین کی فوج کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے موجودہ لیڈر کو اقتدار سے ہٹادے اور پھر ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات کی گنجائش ہے ۔ اس دوران روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کی جانب پیشقدمی جاری رکھی ہوئی ہے ۔ یوکرین کے دارالحکومت کا کسی بھی وقت سقوط ہوسکتا ہے ۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کی موجودہ قیادت یعنی موجودہ لیڈر کو دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ یوکرینی لیڈر کا حلقہ ڈرگ کے عادی لوگوں اور نئے طرز کے نازیوں کی ٹولی ہے ۔ دریں اثناء یوکرین وزارت دفاع نے کہا کہ جاریہ بحران میں ابھی تک زائد از 1000 روسی فوجی ہلاک کئے جاچکے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی قسم کا دعویٰ روس کی طرف سے بھی کیا گیا ہے ۔ یوکرینی دارالحکومت کیف کا فضائی دفاع کا نظام لگ بھگ تباہ ہوچکا ہے ۔ اس لئے روسی فوج کسی بھی وقت کیف کا کنٹرول حاصل کرسکتی ہے ۔ روس نے یوکرین کے شہروں اور فوجی اڈوں پر فضائی حملوں اور 3 اطراف سے فوج اور ٹینک بھیجنے کے بعد ملک کے دارالحکومت کے مضافات میں حملے تیز کردیے ہیں۔خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق دارالحکومت کیف علی الصبح دھماکوں کی آوازوں سے ایسے وقت میں گونج اٹھا جب مغربی رہنماؤں نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا اور یوکرین کے صدر نے بین الاقوامی مدد کی درخواست کی۔دھماکوں کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی لیکن روس کی جانب سے حملوں کے آغاز اور 100 سے زائد یوکرینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد یہ دھماکے ظاہر کرتے ہیں کہ یوکرین کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کیف کی جانب خطرہ بڑھ رہا ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ حکومت کے پاس اطلاعات ہیں کہ ‘تخریب کار گروپ’ شہر پر قبضہ کر رہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ کیف کا محاصرہ ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یوکرینی حکومت کو ختم کرنے اور اس کی جگہ اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش ہے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی قانون سازوں کو کی گئی فون کال سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ وزیر دفاع نے قانون سازوں کو مطلع کیا کہ بیلاروس سے داخل ہونے والی روسی افواج کیف سے تقریباً 20 میل دور ہیں۔
ہندوپاک اپنے شہریوں کے انخلا کیلئے متحرک
یوکرین میں بالخصوص دارالحکومت کیف کے حالات عام زندگی کیلئے ناسازگار ہوگئے ہیں ۔ کیف اور دیگر شہروں میں ہندوستان ، پاکستان اور کئی ملکوں کے طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ جنگی فضاء میں تعلیم جاری رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ہندوستان نے اپنے شہریوں کی واپسی کیلئے کارروائیاں تیز کردی ہیں ۔ ان کے لئے کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے ۔ اسی طرح پاکستان اور دیگر ممالک نے بھی اپنے طلباء و دیگر شہریوں کی واپسی کیلئے سرگرمی بڑھادی ہے ۔
پوٹن کی چینی صدر سے فون پر بات
روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے فون پر بات کرنے اور یوکرین کے ساتھ تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کے بعد یوکرینی نمائندے سے بات کرنے کے لیے اپنا وفد منسک بھیجنے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے دونوں فریقین سے سرد جنگ کی ذہنیت دور کرنے اور تمام ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ شی جن پنگ نے زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے متوازن، مؤثر اور پائیدار یورپی سیکیورٹی کا طریقہ کار تیار کریں۔
روس پر جنگی جرائم کا مقدمہ ہو: آئی سی سی
جنیوا : عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے روس کی طرف سے یوکرین پر حملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت روسی فوج کی طرف سے مبینہ جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے حوالے سے چھان بین کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے۔ خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ یوکرین کے موجودہ جنگی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہیکہ روس اس عالمی عدالت کا ممبر نہیں ہے اور اسے متنازعہ قرار دیتا ہے۔
بلنکن نے یوکرین پر جے شنکر سے کی بات
واشنگٹن؍نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے یوکرین کے بحران پر ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے فون پر بات کی۔بلنکن نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ یوکرین پر روس کا حملہ بین الاقوامی سیکورٹی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر جے شنکر سے آج یوکرین کے بحران اور روس کے حملے کے تناظر میں بات چیت کی۔ روس کا یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔
فریقین جنگ سے متعلق شدت سے
گریز کریں:افغانستان
کابل: یوکرین کے مسئلہ پر امارت اسلامیہ افغانستان کا کہنا ہیکہ فریقین جنگ سے متعلق شدت کے موقف سے گریز کریں، یوکرین میں تمام اسٹیک ہولڈرز برداشت سے کام لیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہیکہ افغانستان یوکرین کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔ افغانستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس صورتحال سے یوکرین میں ممکنہ عوامی نقصانات کے خدشات ہیں۔