یوکرین کا عالمی چمپئن شپ کے بائیکاٹ کا اعلان

   

نئی دہلی۔ یوکرینو کی باکسنگ فیڈریشن (ایف بی یو) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2023 میں ہونے والی خواتین اور مردوں کی عالمی چمپیئن شپ کا بائیکاٹ کریں گے، کیونکہ وہ روسی اور بیلاروسی مکے بازوں کو شامل کیے جانے پر، جنہیں قومی پرچم اور ترانے کے ساتھ مقابلے کی اجازت دی گئی ہے ، اس لئے یہ فیصلہ کیا گیاہے۔ امیچور خواتین کی عالمی چمپئن شپ 15 سے 26 مارچ تک نئی دہلی میں ہونے والی ہے جبکہ مردوں کی چمپئن شپ مئی کے مہینے میں تاشقند میں منعقد ہوگی۔ ہمارا جواب واضح ہے، ہمارے ایتھلیٹس اور یوکرین کی باکسنگ فیڈریشن کے نمائندے شرکت نہیں کرتے جہاں جارحانہ ممالک کے نمائندے ہوں گے۔یہ روس اور بیلاروس ہیں۔ بی ایف یو کے نائب صدر اولیگ الچینکو نے ملک کے پبلک براڈکاسٹر سسپ لائن کو بتایا۔ باکسنگ کی گورننگ باڈی نے روس اور بیلاروس کے باکسرزکو اپنے قومی جھنڈوں اور ترانے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی اجازت دی ہے، جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد فروری اور دسمبر 2022 میں آئی او سی کی منظور کردہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ یوکرین اب ان متعدد ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو پہلے ہی ورلڈکپ کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔ نو ممالک کی باکسنگ فیڈریشنز امریکہ، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ، آئرلینڈ، جمہوریہ چیک، سویڈن اور کینیڈا نے خواتین کے ایونٹ کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ متعدد ممالک نے مردوں کے ٹورنمنٹ سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ الچینکو نے یہ بھی کہا کہ ان کی قومی ٹیم 2024 کے اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی اگر روس یا بیلاروس کے باکسر وہاں مقابلہ کریں گے۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) کی طرف سے ایسا کرنے کے حقوق چھین لیے جانے کے باوجود، روسی اہلکار عمرکریملیو کی قیادت میں آئی بی اے نے اگلے سال پیرس میں ہونے والے اولمپکس کے لیے اپنے اہلیت کے نظام کا انکشاف کیا ہے۔