بروسلز ۔ 19 اگست (ایجنسیز) ناٹو کے سکریٹری جنرل مارک رْٹے نے کہا ہے کہ یوکرین کے لیے ناٹو کے رکن ممالک کو دی جانے والی سیکوریٹی ضمانتوں جیسے موضوعات پر بات چیت جاری ہے۔ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد رٹے نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے یوکرین کے لیے سیکوریٹی ضمانتوں کے تصور میں شرکت کے لیے اپنی رضامندی کا اشارہ دیا ہے، جس میں آرٹیکل پانچ جیسی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جس چیز پر ہم بحث کر رہے ہیں، وہ ناٹو کی رکنیت نہیں ہے۔ ہم یوکرین کے لیے آرٹیکل پانچ قسم کی سیکوریٹی ضمانتوں پر بات کر رہے ہیں۔ ناٹو کے سربراہ نے مزید کہا کہ اور ان میں کیا کیا شامل ہو گا، اس پر اب مزید خاص طور پر بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے واشنگٹن میں کوئی بات نہیں ہوئی، ساتھ ہی انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو ایک کامیابی قرار دیا۔ زیلنسکی نے ناٹو معاہدہ کے آرٹیکل پانچ کی بنیاد پر مغرب سے امداد کی ضمانتیں طلب کی ہیں اور سربراہی اجلاس سے قبل کہا تھا کہ جنگ کے خاتمہ کے لیے ناٹو طرز کی سیکوریٹی ضمانتیں ضروری ہیں۔ مغربی دفاعی اتحاد ناٹو کے معاہدہ میں آرٹیکل پانچ باہمی دفاع سے متعلق شق ہے، جس کے تحت ناٹو کے کسی رکن ملک پر حملے کا دفاع تمام ناٹو ممالک کریں گے۔