ماسکو ۔ 26 جنوری (ایجنسیز) ماسکو حکومت نے پیر کے روز کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں امریکی ثالثی میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات ایک ’’تعمیری ماحول‘‘ میں ہوئے، تاہم ابھی واضح پیش رفت ہونا باقی ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی رابطوں سے کسی بڑے نتیجے کی توقع کرنا غلطی ہوگی لیکن یہ حقیقت کہ یہ رابطہ ایک تعمیری انداز میں شروع ہوئے ہیں، تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ ابوظہبی میں جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والی دو روزہ ملاقات یوکرین پر روسی حملہ کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کا پہلا موقع تھی۔ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمہ کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبہ پر ماسکو اور کییف کے وفود نے گفتگو کی۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ہونے والے یہ سہ فریقی مذاکرات یکم فروری کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ پیسکوف نے پیر کے روز کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہاں کوئی دوستانہ ماحول تھا، اس مرحلے پر یہ مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ مذاکرات کے ذریعہ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو تعمیری انداز میں بات کرنا ضروری ہے۔ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ابوظہبی کی ملاقات کے دوران کافی تفصیلی گفتگو ہوئی اور اہم بات یہ ہے کہ یہ گفتگو تعمیری رہی۔ دوسری جانب روسی ڈرونز اور میزائل حملوں کی وجہ سے یوکرین میں لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہیں، جب کہ کییف حکومت شدید سردی میں شہری انفراسٹرکچر سے متعلق تنصیبات پر ان نئے حملوں کو امن مذاکرات کو نقصان پہنچانے کی روسی کوشش قرار دے رہی ہے۔ کیف حکومت کے مطابق گزشتہ شب روس کی جانب سے یوکرین میں گیارہ مقامات پر ایک سو اڑتیس ڈرون حملے کیے گئے۔