راجنا ۔ سرسلہ ۔ 9 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : کونا راؤ پیٹ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان 2005 میں ایک قتل کی واردات میں اس کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کیلئے دبئی ، یو اے ای میں ایک جیل میں 18 سال گذارنے کے بعد گھر واپس ہوا ہے ۔ وزیر آئی ٹی و انڈسٹریز کے ٹی راما راؤ کی مداخلت سے یہ ممکن ہوسکا جنہوں نے یو اے ای کے عہدیداروں سے اسے اور دیگر چار لوگوں کو رہا کرنے کی درخواست کی تھی ۔ یہ نوجوان ڈی لکشمن 2000 کے اوائل میں روزگار کی تلاش میں دبئی گیا تھا ۔ تاہم 2005 میں وہ دیگر چار ایس روی ، ملیشم ، نام پلی اور ہنمنتلو کے ساتھ ایک نیپال شہری کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھا ۔ دبئی کے ایک عدالت نے ان تمام کو اس جرم میں ان کے ملوث ہونے کی پاداش میں 25 سال جیل کی سزا دی تھی ۔ چند ماہ قبل راما راؤ نیپال گئے اور مقتول کے خاندان کو معاوضہ میں 15 لاکھ روپئے حوالہ کئے ۔ انہوں نے یو اے ای کی حکومت سے انہیں معافی دینے کی بھی درخواست کی ۔ تاہم جرم کی سنگینی کے باعث یو اے ای حکومت کے عہدیداروں نے ابتدا میں اس درخواست کو قبول نہیں کیا تھا ۔ ستمبر میں تلنگانہ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے سلسلہ میں ان کی کاوشوں کے حصہ کے طور پر راما راؤ نے دبئی کا دورہ کیا ۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے سزا یافتہ ان پانچ افراد کو رہا کروانے کی کوشش کی ۔ انہوں نے ہندوستانی قونصلیٹ عہدیداروں اور یو اے ای حکومت کے عہدیداروں سے ان لوگوں کی رہائی کے تعلق سے بات چیت کی ۔ اتفاق سے ، دبئی کی ایک عدالت نے لکشمن کو جیل میں اس کے اچھے چال و چلن کو ملحوظ رکھتے ہوئے معافی دینا منظور کیا ۔ تاہم دیگر چار دبئی میں قید ہیں ۔ ان کے ارکان خاندان اب انہیں جیل سے رہا کروانے کے لیے کوشش کرنے کے ٹی راما راؤ سے اپیل کررہے ہیں ۔۔