یو اے ای میں کمپنیوں پر کارپوریٹ ٹیکس کا نفاذ

   

ابوظہبی : متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اپنی معیشت کے استحکام کیلئے کمپنیوں پر نو فیصد کارپوریٹ ٹیکس عائد کرنا شروع کردیا۔متحدہ عرب امارات کے محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئے قوانین ٹیکس فری زون میں شامل، اربوں ڈالرز کے اشیا پڑوسی ممالک کو درآمد کرنے والے، 30 سے زائد شعبوں پر لاگو نہیں ہوں گے۔محکمہ خزانہ کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس کے قوانین آج سے لاگو ہو جائیں گے۔اماراتی محکمہ خزانہ میں ٹیکس پالیسی کی سربراہ شبانہ بیگم نے میڈیا کو بتایا کہ نئے قوانین سے امکان ہے کہ کچھ کاروبار یہاں سے منتقل ہو جائیں تاہم ہمارا مقصد یہ ہے کہ مستحکم معیشت کے ساتھ کاروبار کیلئے یو اے ای کی کشش کو برقرار رکھا جائے۔حکومت کا کہنا تھا کہ ٹیکس قوانین میں تبدیلی ٹیکس چوری جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی کوششوں کی تناظر میں کی گئی ہے، ٹیکس اصلاحات آہستہ آہستہ گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کے تمام رکن ممالک کے اندر ہوں گی، 2017 میں تمام ممالک نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس متعارف کروانے پر اتفاق کیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی یو اے ای کی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگی تاہم اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔واضح رہے کہ یو اے ای میں قابل ٹیکس آمدنی کم از کم 3 لاکھ 75 ہزار درہم (کم و بیش ایک لاکھ ڈالرز) پر نو فیصد ٹیکس ریٹ جی سی سی میں سب سے کم ہے جبکہ بحرین کی جانب سے تاحال کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ہے۔