نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا شیڈول جاری کردی ہے ۔اس سلسلہ میں ہفتہ کو دہلی کے وگیان بھون میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس میں گوا، پنجاب، منی پور، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا۔ کورونا کی روک تھام کے اصولوں کے پیش نظر پریس کانفرنس کا انعقاد وگیان بھون کے بڑے ہال میں کیا گیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق پانچ ریاستوں میں پولنگ کی شروعات 10 فروری 2022 سے ہوگی اور آخری مرحلہ کی ووٹنگ 7 مارچ کو ہوگی۔ 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات 7 مراحل میں مکمل ہوں گے۔ پنجاب، گوا اور اتراکھنڈ کے انتخابات ایک مرحلہ میں مکمل ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ منی پور کے انتخابات 3 مراحل میں جبکہ اتر پردیش کے انتخابات 7 مراحل میں پورے ہوں گے۔پہلے مرحلہ کیلئے ووٹ 10 فروری کو ڈالے جائیں گے۔ اس پہلے مرحلہ میں اتر پردیش میں پولنگ ہوگی۔ دوسرے مرحلہ کے تحت 14 فروری کو ووٹنگ ہوگی اور اس مرحلہ میں یوپی کے کچھ اضلاع کے ساتھ پنجاب اور اتراکھنڈ کی تمام سیٹوں پر پولنگ ہوگی۔ تیسرے مرحلہ کے تحت 20 فروری اور چوتھے مرحلہ کے تحت 22 فروری کو پولنگ ہوگی، ان دونوں مراحل میں صرف اتر پردیش کی سیٹوں پر ہی ووٹ ڈالیں جائیں گے۔اس کے بعد پانچویں مرحلہ کے تحت 2 مارچ، چھٹے مرحلہ کے تحت 3 مارچ اور ساتویں اور آخری مرحلہ کے تحت 7 مارچ کو پولنگ ہوگی۔ بعد کے تینوں مراحل میں یوپی کے ساتھ منی پور میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 10 مارچ کو پانچوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔
اور 10 مارچ کو ہی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ لیکشن کمشنر نے اطلاع دی کہ کورونا سے متاثرہ افراد یا کورونا کے ممکنہ متاثرین کے گھر الیکشن کمیشن کی ٹیم خود پہنچے گی اور ووٹ ڈلوا کر آئے گی۔ اس طرح کے ووٹروں کو بیلٹ پیپر سے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا۔الیکشن کمشنر سشیل چندر نے کہا کہ کورونا سے پاک انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا مقصد ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سشیل چندر نے کہا کہ اس مرتبہ 5 ریاستوں کی 690 اسمبلی سیٹوں کے انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دور میں انتخابات کرانا کافی مشکل کام ہے۔الیکشن کمشنر سشیل چندر نے بتایا کہ اس مرتبہ مجموعی طور پر 18.34 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا ا ستعمال کریں گے۔ ان میں 8.55 کروڑ خواتین شامل ہیں جبکہ 24.9 لاکھ ووٹور پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے۔ ان میں سے 11.4 لاکھ لڑکیاں پہلی مرتبہ ووٹر بنی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تمام پولنگ بوتھ گراونڈ فلور پر ہوں گے، تاکہ لوگوں کو ووٹنگ میں آسانی رہے۔ کورونا کی روک تھام کے لئے ہر بوتھ پر ماسک اور سینیٹائزر موجود رہے گا۔ کورونا کی وجہ سے اس مرتبہ ہر بوتھ پر صرف 1215 افراد ہی ووٹ ڈالیں گے، اس سے پہلے 1500 ووٹ ڈالے جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ بوتھوں کی تعداد میں 16 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
