یو پی : مسلم نوجوان کی لنچنگ سے موت، پولیس کا جانبدارانہ رول

,

   

ہندوہجوم نے 32 سالہ باسط کو درخت سے باندھ کر بے رحمانہ پٹائی کی ، دواخانہ میں جانبر نہ ہوسکا
بریلی : اترپردیش کے ضلع بریلی میں مسلم نوجوان کی اکثریتی فرقہ کے افراد کے ہاتھوں لنچنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں 32 سالہ باسط خان کی موت ہوگئی ۔ موضع آنولا میں پیش آئے اس واقعہ کے تعلق سے بتایا گیا کہ باسط پر مقامی ہندوؤں نے چوری کا شبہ کیا اور اسے پکڑ کر درخت سے باندھ دیا ۔ اس کے بعد کئی ہندوؤں نے اس کی ہر طرح سے مار پیٹ کی ۔ اسے گھنٹوں درخت سے باندھے رکھا گیا حتی کہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں پہونچ گیا ۔ جمعرات کی شب اس واردات کے بعد باسط نے جمعہ کو بریلی کے ایک دواخانہ میں دم توڑ دیا ۔ چھان بین پر معلوم ہوا کہ باسط پر چوری کا غلط الزام لگایا گیا جس کا مقصد اسے نشانہ بنانا تھا ۔ باسط کے رشتہ دار نے کہا کہ ہندو نوجوان اسے خوب مارنے کے بعد اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے ۔ جب رشتہ داروں کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے اسے وہاں سے دواخانہ منتقل کردیا۔ لنچنگ کرنے والوں نے اس کی ویڈیو گرافی بھی کی اور اسے ٹوئیٹر پر شیئر کیا ۔ ابتداء میں پولیس کو واقعہ کی اطلاع ملی لیکن پولیس نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جانبداری سے کام لیا اور شدید زخمی باسط کو دواخانہ منتقل نہیں کیا ۔ مسلم جہد کار محمد آصف خان نے اس واقعہ کو میڈیا کے علم میں لایا ۔ باسط کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ جس وقت وہ باسط کے پاس پہنچے اسے شدید تکلیف میں پایا۔ چنانچہ اسے دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا ۔۔