نئی دہلی : جیل میں قید جے کے ایل ایف چیف یٰسین ملک جو تہاڑ جیل میں عمر قید گزار رہا ہے ، اس کی جمعہ کو سپریم کورٹ میں پرہجوم کمرہ عدالت میں حاضری نے نہ صرف عدالت بلکہ وکلا کو بھی حیران کردیا ۔ یٰسین دہشت گردی کی فنڈنگ کے کیس میں قصوروار پائے جانے کے بعد عمر قید کی سزاء بھگت رہا ہے ، اسے آج جیل کی سخت سیکوریٹی والی ویان کے ذریعہ عدالت کی اجازت کے بغیر کمرہ عدالت میں لایا گیا ۔ جیسے ہی وہ کمرہ عدالت میں پہنچا تمام لوگ حیرانی میں مبتلا ہوئے ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جسٹس سوریا کانت اور جسٹس دیپانکر دتا کی بنچ کو بتایا کہ نہایت جوکھم والے مجرمین کو کمرہ عدالت میں اپنا کیس خود لڑنے کیلئے داخلے کی اجازت کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے جس کی تعمیل نہیں کی گئی ۔ عدالت نے بھی کہا کہ انہوں نے یٰسین کو حاضر کرنے کیلئے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا ۔ اس درمیان جسٹس کانت نے کہا کہ جسٹس دتا نے اس معاملہ سے خود کو علحدہ کرلیا ، اس لئے اب یہ معاملہ چیف جسٹس سے رجوع کرنا پڑے گا ۔ تشار مہتا نے کہا کہ جیل حکام کی کچھ غلط فہمی کی وجہ سے یٰسین ملک کو عدالت لایا گیا ۔