یہاں تک پہنچنے کےلئے بہت محنت کرنا پڑا ۔ میری تصاویر میرے سامنے کچرے کے ڈبہ میں پھینک دی جاتی تھیں : اداکار منوج جوشی نے پرانے دن یا دکئے ۔ 

ممبئی : پریم رتن دھن پائیو ، ہنگامہ ، کیونکہ اسی طرح دوسرے کئی فلموں میں اپنی اداکاری کرنے والے منوج جوشی نے بتایا کہ انہیں یہاں تک پہنچنے کےلئے بہت محنت کرنی پڑی ۔ انہوں نے مختلف فلموں میں مختلف رول بخوبی ادا کر چکے ہیں ۔ کامیڈی ہویا سنجیدہ پولیس افسر کا رول ہومنوج جوشی بہتر انداز میں اسے کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سنہ 1990ء سے فلموں میں جد وجہد کررہاہو ں ۔ میں کسی فلم اسٹار کا بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بہت جد وجہد کرنی پڑی ۔ میں ہر رول ادا کئے ۔ یہ نہیں دیکھا کہ یہ رول چھوٹا ہے یا بڑا ۔ مجھے فل میں آسانی سے نہیں ملا کرتی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ میں شروع میں اپنے تصاویر لے کر اسٹوڈیوز کے چکر لگایا کرتا تھا ۔ فلم پروڈیوسرس میری تصاویر کو دیکھ کر بازو رکھ دیا کرتے تھے ۔ مجھے محسوس ہوجاتاتھا کہ جس طرح ان لوگوں نے میری تصاویر رکھی ہیں مجھے یہاں کام نہیں ملنے والا ہے ۔ بعض دفعہ ڈائریکٹرس میری تصاویر کو میرے سامنے کچرے کے ڈبہ میں پھینک دیتے تھے ۔

اس وقت منوج جوشی نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تصاویر شوٹ نہیں کروائیں گے ۔ کیوں کہ ایک تصویر کھنچوانے کے لئے ۸;241;تا ۰۱;241; روپے لگتے تھے ۔ اور دس تصاویر کے سو روپے ہوا کرتے تھے ۔ اس وقت سوروپے بھی میرے لئے بڑی رقم ہوا کرتی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ میں بنا تصویر کو آڈیشنس دینے لگا او رڈائریکٹرس سے کہہ دیتا تھا کہ یہ میرا حلیہ ہے او راس طرح میری اداکاری ہے ۔ آپ اسی بنیاد پر فیصلہ کریں ۔ منوج جوشی نے کہا کہ مجھے سب سے بڑا فلم ساز جان ماتو نے فلم سرفروش ۹۹۹۱ ء میں دیا ۔ مسٹر جوشی نے بتایا کہ میں ایک تھیٹر میں مہاتماگاندھی کے بیٹے ہری لال گاندھی کارول ادا کررہا تھا ۔ اس وقت وہاں پر جان ماتو بھی موجود تھے ۔

میری اداکاری کو دیکھ کر انہوں سرفروش فلم میں مجھے پولیس افسر کا رول کی پیشکش کی ۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ ایک دوسین کا رول ہوگا ۔ اس سے اچھا تو میں تھیٹر میں ہی ہوں ۔ لیکن جب میں سنا کہ پورا رول مجھے ہی ادا کرنا ہے تو میں خوشی سے پاگل ہوگیا ۔ اس کے بعد سے مجھے فلم کے آفرس آنے لگے ۔ انہوں نے بہت سارے فلموں میں کام کیا ۔ انہیں پدماشری ایوراڈ سے بھی نوازا گیا ۔ 

TOPPOPULARRECENT