یہ ایک اسٹریٹجک غلطی ہے: عراقچی کی یورپی یونین کے فیصلہ پر تنقید

   

تہران ۔ 30 جنوری (ایجنسیز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو یورپی یونین کے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دے دیا۔ انہوں نے ’’ ایکس‘‘پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ کئی ممالک اس وقت ہمارے خطے میں ہمہ گیر جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی یورپی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک یورپ کا تعلق ہے، وہ آگ پر تیل ڈالنے میں مصروف ہے۔ امریکہ کی درخواست پر ’’سنیپ بیک‘‘ میکانزم کو فعال کرنے کی کوشش کے بعد اب وہ ہمارے قومی فوجی ادارے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر ایک سنگین ااسٹریٹجک غلطی کر رہے ہیں۔ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف یورپی یونین کا موجودہ موقف خود اس کے اپنے مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔دوسری جانب ایرانی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے یورپی یونین کے فیصلے کو غیر منطقی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تہران کے خلاف اس بلاک کی دشمنی کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس دشمنانہ اور اشتعال انگیز فیصلے کے بھیانک نتائج کی براہِ راست ذمہ داری یورپی یونین پر ہوگی۔یہ ایرانی ردعمل اس وقت سامنے آیا جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے اعلان کیا کہ یورپی وزرائے خارجہ نے سپاہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کایا کالس نے ’’ ایکس‘‘ پر لکھا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ابھی ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایرانی نظام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو بھی نظام اپنے لوگوں کو قتل کرتا ہے وہ اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔گزشتہ روز قبل کئی یورپی ممالک نے اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (سپاہ پاسداران انقلاب) کو دہشت گرد تنظیموں کی یورپی یونین کی فہرست میں شامل کرنے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ان یورپی ملکوں میں فرانس اور اٹلی سرِ فہرست ہیں۔
یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب انسانی حقوق کی تنظیمیں پاسدارانِ انقلاب پر ملک میں حالیہ مظاہروں کو کچلنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔یاد رہے ایران میں 28 دسمبر سے بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے جو دارالحکومت تہران کے بازار سے شروع ہوئے اور کئی علاقوں تک پھیل گئے اور معاشی مطالبات سے سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے اسرائیل اور امریکہ پر مداخلت اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا اور یہ بھی کہا کہ دہشت گرد عناصر مظاہرین میں شامل ہو کر ہلاکتوں کی تعداد بڑھانے کیلئے فائرنگ کر رہے ہیں۔