سودیشی جاگرن منچ کا اعلان ۔ آر سی ای پی معاہدہ کے سبب ملک میں ناقص اشیاء کی بھرمار
نئی دہلی 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کی ملحقہ تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے جمعرات کو اعلان کیاکہ وہ ’’علاقائی جامع معاشی شراکت داری‘‘ (آر ایس ای پی) کے خلاف ملک گیر احتجاج کرے گی۔ آر ایس ای پی ’’آسیان‘‘ کے رکن ممالک اور آزادانہ تجارتی منطقوں کے حامل چھ ملکوں کے درمیان ایک مجوزہ آزادانہ تجارتی معاہدہ ہے۔ یہ اعلان آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کے چند دن بعد کیا گیا جس میں بھاگوت نے وجئے دشمی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ملک کو دیگر ممالک کے ساتھ محتاط تجارتی تعلقات کی صلاح دی تھی۔ انھوں نے دیسی اشیاء کی بھی وکالت کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے ملک کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات پیدا کرنے اور انھیں وسعت دینے کی ضرورت ہے لیکن یہ تعلقات ہماری طاقت اور ہماری شرائط کے مطابق ہونے چاہئیں۔ جاگرن منچ نے اپنے بیان میں کہاکہ یہ احتجاج 10 تا 20 اکٹوبر ملک کے تمام اضلاع میں کیا جائے گا۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منچ اس کے خلاف منظورہ ایک قرارداد وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے کرنے کے لئے اسے تمام ضلعی مجسٹریٹوں کے دفاتر میں داخل کرے گا۔ منچ نے حکومت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ آر ایس ای پی پر دستخط کرنے سے گریز کرے۔ منچ نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ آزادانہ تجارتی منطقوں (ایف ٹی اے) کی کارکردگی کے تعلق سے فوری طور پر ایک رپورٹ بھی شائع کی جائے اور اس کے تعلق سے پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کی بھی اشاعت عمل میں لائی جائے۔ منچ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حال ہی میں ملک کو صنعتی شعبہ اور زرعی شعبہ کے بحران کا سامنا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ملک میں بے روزگاری پھیل رہی ہے اور 1991 ء میں ملک میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہ ہونے کے سبب صنعتی شعبہ میں بحران پایا جاتا ہے۔