ء1908 کی طغیانی کے سبب حیدرآباد رمضان اور عید متاثر

,

   

112 سال بعد یکساں صورتحال، طغیانی اور کورونا دونوں سے تباہی
حیدرآباد ۔18۔ مئی(سیاست نیوز) کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں حیدرآباد میں جس طرح کا رمضان المبارک گزر رہا ہے، ٹھیک اسی طرح کے حالات 112 سال قبل حیدرآباد کے تھے اور اس وقت بھی مسلمانوں نے رمضان المبارک کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ مورخین کے مطابق رمضان 2020 جس طرح روایتی عقیدت و احترام اور تجارتی سرگرمیوں سے خالی ہے، اسی طرح 1908 ء میں موسیٰ ندی میں طغیانی کے سبب بھاری تباہی کے بعد مسلمانوں نے رمضان المبارک کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ موسیٰ ندی کی طغیانی کے بعد حیدرآباد کے مسلمانوں نے عیدالفطر نہیں منائی۔ طغیانی کے سبب بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا تھا ۔ اب جبکہ کورونا لاک ڈاؤن کے سبب مسلمان رمضان المبارک اور عید الفطر کے اہتمام سے قاصر ہے ، لہذا 1908 ء کی صورتحال کی یاد تازہ ہوچکی ہے ۔ 1908 ء کی طرح آج بھی غریب اور متوسط خاندان معاشی اور سماجی مسائل کے سبب عید کے اہتمام سے قاصر ہیں۔ 1908 ء کی طرح جاریہ سال بھی رمضان اور عید صرف انفرادی روحانی اور مذہبی تقاریب تک محدود ہوچکے ہیں۔ آرکائیوز کے ریکارڈ کے مطابق 1908 ء میں اگرچہ حیدرآباد میں مساجد کھلی تھیں اور عید کی نماز کا اہتمام عیدگاہ میں کیا گیا تھا، لیکن دعوت افطار اور بڑے پیمانہ پر عید ملاپ جیسے پروگرام نہیں ہوئے۔ پریشان حال عوام نے اس وقت نئے کپڑے تک نہیں خریدے تھے اور آج بھی غریب مسلمان عید کی خریداری کے موقف میں نہیں ہے۔1908 ء میں عید کی خریداری کے بجائے عوام نے متاثرین اور غریبوں میں رقم تقسیم کردی تھی۔ آج بھی اہل خیر افراد لاک ڈاؤن سے متاثرہ خاندانوں میں اناج کی صورت میں امداد تقسیم کر رہے ہیں ۔ آرکائیوز کے ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 اور 1908 ء کی صورتحال میں کافی یکسانیت ہے ۔ دونوں مواقع پر حیدرآباد کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی ۔ دونوں مواقع اگرچہ علحدہ طرز کی تباہی کے ہیں لیکن یہ دونوں نے رمضان المبارک کی سرگرمیوں کو متاثر کیا تھا۔ 27 ستمبر 1908 ء کو جس دن رمضان المبارک کا چاند نظر آیا۔ طوفانی بارش ہوئی اور یہ سلسلہ دو دن تک جاری رہا ۔ 1908 ء میں رمضان المبارک کا 27 ستمبر کو آغاز ہوا تھا۔ پہلے روزہ کے آغاز کے ساتھ ہی غیر معمولی طوفانی اور موسلادھار بارش شروع ہوئی ۔ 28 ستمبر کو حیدرآباد طغیانی کی زد میں تھا اور محض 36 گھنٹوں میں 43.18 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ طغیانی کی زد میں افضل گنج ہاسپٹل بہہ گیا اور تقریباً 15,000 افراد ہلاک اور 80,000 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔ 1908 ء کے رمضان کا تقابل کریں تو جاریہ سال اگرچہ غریب اورمتوسط خاندان معاشی مسائل کا شکار ہیں لیکن کووڈ۔19 کی تحدیدات کے سبب مساجد کو عبادتوں کیلئے بند کیا گیا ہے۔ مورخین نے بتایا کہ 1908 ء اور جاریہ سال کے رمضان میں تباہی اور مسائل مشترک ہیں جبکہ ایک طغیانی کے سبب تباہی تھی تو اب کورونا وائرس کے قہر میں رمضان اور عید کو متاثر کیا ہے۔