انجینئر محمود اقبال
وہ کاغذ کی کشتی ، وہ بارش کا پانی
بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی
کیا آپ آگے آگے ہی دیکھ رہے ہیں یا کبھی پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھنے کی زحمت بھی گوارا کی ہے ؟ ہم آپ کو آگے دئکھنے یا چلنے سے منع کرنے کی جسارت نہیں کرسکتے، صرف آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے تیز رفتار زمانہ کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کیا کچھ کھودیا ہیِ، اور کیا پایا ہے ؟ آگے آگے کی دنیا ہمیں بھی بڑی خوبصورت ، رو ز بروز ز ترقی پذیر اور سہانی سہانی نظر آرہی ہے۔ یہ تیز رفتار ترقی کا زمانہ ہیَ۔ سائنٹسٹ اور ٹکنالوجسٹ آگاہ کر رہے ہیں کہ یہ صرف کائنات نہیں ، بلکہ کائنات در کائنات ہیِ۔ آی ٹی کا دور ہیٍ، مصنوعی ذہانت کا دور دورہ ہے۔ یہاں بحث کا یہ موضوع مطلق نہیں ہے۔ بس ذرا ماضی میں جھانک کر یہ سبق حاصل کرنا ہے کہ زمانہ کے پیچھے دوڑتے دوڑتے ہم نے کیا کچھ کھودیا ہیاور کیا گنوارہے ہیں۔ یقینآ، آپ نے اپنے دادا ، دادی ، نانا اور نانی اور دیگربزرگوں کو ضرور دیکھا ہوگا۔کیسی صحت تھی ؟ کتنی عمر تھی انتقال (خدانخواستہ) کے وقت ؟ اگر آج ہم اپنے آپ کو ان سے موازنہ کرکے دیکھیں تو ان کے سامنے کچھ بہھی نظر نہیں آتے ہیں۔ نہ ہی عمر میں اور نہ ہی صحت میں۔ پوچھیں کیوں ؟ جواب آپ کو بھی پتہ ہے اور ہمیں بھی۔ بس ذرا سوچنے کا وقت نکالنا ہے اور وقت ہے کہ تیزی سے بھاگا جارہا ہے اور ہماری عمروں اور صحتوں کا امتحان لے رہا ہے۔ وقت مطلق نہہیں رکے گا او ر نہ ہی ہمیں ’وقت ‘ دیگا۔ کچھ وقت کے لئے ہمیں ہی رکنا پڑیگا کہ آخر میری صحت کیوں دن بدن بگڑتی جارہی ہے؟ جوانی ہی میں بال کیوں سفید ہو تے جارہے ہیں ؟ جم میں کیوں نوجوان بیہوش ہوکر گر رہے ہیں ؟ ور بعضے تو عین جوانی ہی میں ہارٹ اٹیک سے دم توڑرہے ہیں۔ مایں کیوں نارمل ڈیلوری سے محروم ہوتی جارہی ہیں ؟ آج کل لگتا ے ہر دوسرا تیسرا بچہ سیزرین ڈیلوری سے پیدا ہورہا ہے۔ کیوں ؟ کیا ہم بھی اسی طرح پیدا ہویے تھے ؟ مستورات میں بانجھ پن کیوں بڑھ رہا ہے ؟بہت پہلے کی بات ہے آنجہانی وزیرآعظم آئی کے گجرال جی نے ہماری آٹوگراف بک میں ایک خوبصورت جملہ لکھا تھا ۔’زندگی خوبصورت ہے، اسے خوب تر بناؤ‘۔ خوب سے خوب تر کی جستجو میں ہم آ ج بھی سرگرداں ہیں، لیکن ہمیں اپنی نہیں بلکہ مستقبل کے بچوں کی فکر ہے۔ بقول منظر بھوپالی
ہم نے جس طرح گزری زندگی گزاری ہے
نسل نو کے متوا لو، ا ب تمہاری باری ہے
آپ کو پتہ ہے ج کل کینام نہاد ترقی پذیر زمانہ میں کونسی تجارتیںزیادہ پھل پھول رہی ہیں ؟ جی ہاں ، صحیح سوچا آپ نے۔ہوٹلس، کارپوریٹ ہاسپٹلس اور اسکولس۔ ہاں یاد آیا ، ایک اور بزنس ہے جو چپکے چپکے اپنے پیر پھیلارہا ہے۔ کیا آپ نے پہلے کبھی سنا تھا۔اولڈ ایج ہوم کا نام ؟ کیا آپ کی گلی میں بھی کھل گیا ہے ؟ اگر کھل گیا ہے تو مطلق تعجب نہیں کیجیے گا۔ اللہ نہ کرے کبھی آپ کو ان کییدروازوں پر دستک دینے کی نوبت آے۔ لیکن اب یہ دھییرے دھیرے آباد ہونے لگے ہئں۔وجہ ؟ بعض بے ادب اور نا فرمان اولادیں ؟ جو اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر ’باہر‘ یا اپنا الگ گھر بسا رہے ہیں؟ تعداد کم ہے، لیکن شروعات ہوچکی ہیں۔ہوٹلیں ہیں کہ پورے شہر میں مشروم کی طرح کھلتی جارہی ہیں۔
زعفرانی مٹن بریانی، کیک پیسٹری ایسے کونسے کھانے اور لوازمات نہیں ، جو ہمارے دسترخوانوں تک اسمارٹ فون پر کلک کرتے ہی نہیں پہنچ رہے ہوں؟ لد گیے وہ زمانے جب مایٰیں بڑے چاؤ سے اپنے نو نہالوں کو نہلا دھلا کر، کھلا پلاکر اسکول بھیجا کرتی تھیں۔ لیکن آج کل کی کچھ نیی نویلی دلہنیں، بہویں اور شہزادیاں گھروں میں کھانا کم کم ہی بنارہی ہیں۔ باہر کا کھانا کھاکھاکر دنیا بھر کی بیماریاں ہمارا پیچھا کر رہی ہیں اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی چاندی ہو رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ مینجمنٹ اور ڈاکٹرس کی نظریں مریض کی نبض پر کم اور اسکے بینک بیلنس پر زیادہ ہوں؟ سچ ہے نا ؟ ایک آدھ ٹیست کی ضرورت ہو تو بھی دس بارہ لکھے جارہے ہیں تاکہ پیسہ بنے۔ اب یہ بات کسے سے مخفی نہیں رہی کہ کارپوریٹ ہاسپٹللس اور ڈییگنوسٹکس سنٹرس میں سازبازاور ملی بھگت چل رہی ہے کہ کیسے مریضوں کو لوٹا جایے۔ اب یہ بزنس سے ذیادہ ’دھندا‘ نظر آنے لگا ہیے۔ ہاسپٹلس کے بعدپرایویٹ اسکولس اوسط گھرانوں پراضافی بوجھ بن چکے ہیں۔ بچوں کی تعلیم مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جارہی ہے۔
بھلا ہو پرانے زمانہ کے اداکار جتندر کی بیٹی ایکتا کپور کا کہ ٹی وی پر ایک سے ایک بڑھ کر سیریلس جنکی وجہ سے گھروں کا ماحول بگڑتا جارہا ہے۔ ’ساس، بہو اور سازش یا نہیں تو ’وہ‘ ؟ وہ، بوایے فرینڈ ؟ ہر گھر میں ٹی وی، دنیا بھر کے چینیلس ، گھروں کا ماحول بگڑے گا نہیں تو اور کیا ہوگا ؟ پہلے کے زمانہ میں مایں اور ساسیں اپنی بہو بیٹیوں کا اپنے ہاتھوں سے ’سولہ سنگھار‘ کرتی تھیں لیکن آج کل کی کچھ کچھ ماڈرن دوشیزایں بیوٹی پارلر سے سج دھج کر آتی ہیں۔ سیلفی بناکر سوشیل میڈیا پر لوڈ کرتی ہیں،سہیلیوں اور بوایے فرینڈ کے سامنے اتراتی ہیں۔ اگر شادی شدہ ہے تو شوہر کی بانہوں تک پہنچتے پہنچے باسی سنگار؟ نقلی اور کمیکلس سے آلودہ میک اپ دنیا بھر کی جلد کی بیماریوں کا سبب بنتا جارہا ہے۔ نوجوان لڑکوں ور لڑکیوں کی شادیاں امیر ماں باپ کے لیے فضول خرچی کا بہانہ اور رات دیر گیے تک کھانا پینا، مہنگے مہنگیشادی خانے ، ڈی جیاور ناچ گانا؟ صبح کاذب تک؟ غریب ماں باپ کیا کریں ؟ بقول شاعر :
باپ بوجھ ڈھوتا تھا ، کیا جہیز دے پاتا
س لیے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے
’انکل سام‘ یعنی صدر امریکہ نے انڈیا پر پچاس فیصدی ٹیرف لگادی ہے۔ ٹی وی پر بڑے بڑے سیانے، اکانومسٹ، نام نہاد پتر کار، پروفیسرس اور پولیٹیکل انالایسٹ کی گفتگوسن کر ہم انگشت بدندان ہیں۔ چینلس پر بیٹھ کر گویا ہیں کہ بدلہ میں یہ کریں ، وہ کردیں۔جتنے منہ اتنی باتیں۔ لیکن ہم ؟ خوشی سے پھولینہیں سمارہے ہیں۔ پتہ ہیکیوں ؟ سویدیشی سے دیسی، یعنی ’خود مکتفی ہندوستان‘ ’آؤ لوٹ چلیں پیچھے کی طرف‘ ؟ اوپر والے کی طرف سے ہمیں یہ غیبی مدد نظر آرہی ہے کہ ہم پھر سے اپنا گھر اور معاشرہ درست کرلیں؟ آنجہانی وزیرآعظم پی وی نرسمہا راؤ جی نے باہر کے ملکوں کے لیے ہندوستان کی منڈیاں کھول دی تھیں۔ ہندوستان کی معشیت اور ثقافت پر تب ہی سے منفی اثرات پڑنے لگے تھے۔ دنیا بھر کے فرسودہ اور مضر صحت دوایں ، کھانے پینے کی اشیا ء ہمارے گھروں میں وارد ہوے لگی تھیں۔ امیریکن اور یورپی خورد و نوش کی اشیاء پر تو آج بھی روس میں پابندیاں عاید ہیں۔ پھر ہم کیوںجھیلیں اور متاثر ہوں ؟ اچھا ہوا،
یہ بلایں اب ٹلنے والی ہیں۔اور ہم ’امول دودھ پیتا ہے اندیا‘ ، برگر اور میکدونلڈوغیرہ سے پیچھا چھڑا پایں گے؟معافی چاہتا ہوں بات چل رہی تھی ’پیچھے کی طرف لوٹ چلنے‘ کی اور بیچ میں مسٹر ترمپ اور مودی جی آگیے۔ ’بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی‘ زندگی کو ہم دوبارہ سے خوبصورت اور پر سکون بناسکتے ہیں۔ وہ کیسے ؟ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے گھروں کے باورچی خانہ سے پلاسٹک کی بنی تمام اشیاء کوباہر نکال پھینکنا پڑیگا۔(کمیکلس آلودہ اور مضر صحت)۔ باہر کے کھانوں کا کم سیکم آرڈر۔زوماٹو اور سویگی والوں کو ’ٹاٹا، ٹاٹا‘ کہنا پڑیگا۔ جم جانے کے بجاے گھروں میں ہی ہلکی پھلکی ورزش، چھل قدمی اور یوگا کی عادت ڈالنی ہوگی۔سن باتھ؟ گھر کے پکے ہوئے کھانوں کو ترجیح دینی ہوگی۔ طرح طرح کی بیماریوں سے بچنا ہوگا اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی لوٹ مار سے ’توبہ توبہ‘۔ جہاں تک ہوسکے دیسی علاج پر توجہ زیادپہ بہتر ہے۔ نیچروپتھی، یونانی، ہومیوپتھی اور ایورودک وغیرہ وغیرہ۔ پرانے آزمودہ نسخے باپ داداکے؟
یہی علاج تو ہمارے بزرگ بھی کروایا کرتے تھے اور اسی اسی نوے نوے کی سحت مند عمریں جیتے تھے۔ آلودہ پانی اور آلودہ ہواوں سے بچنا ہوگا۔ شہروں کی زندگی سے تو اب گاوں کی زندگی زیادہ بہتر نظر آنے لگی ہے لیکن شہر بھی تونہیں چھوڑ سکتے ہیں نا ؟روزگار جو لگا ہوا ہیے ؟ لیکن ہفتہ میں کم از کم ایک بار چھٹی کے دن شہر کے باہر، کسی ندی کے کنارے، تالاب کے کٹے پر، باغوں میں، جنگلوں میں سہی، اگر اللہ توفیق دے تو اپنے نجی فارم ہاوز پر اپنے بال بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارسکتے ہیں نا ؟ ہفتہ میں کم از کم ایک دن مختلف سہی ؟ یعنی، قدرتی زندگی ؟ پکنک سہی ؟ ایسے لگتا ہے کہ اس وسیع تر کاینات درکاینات میں اللہ تعالی کی جو مخلوق ’مصنوعی زندگی‘ گزار رہی ہے وہ صرف ’ اشرف المخلوقات‘ یعنی انسان ہی ہے۔ سنتے آئے ہیں کہ ماں کی گود اپنے بچہ کا پہلا مدرسہ ہوتی ہیے۔ لیکن اب ایسے لگ رہا ہے کہ اسکی جگہ ’نرسری‘ نے لے لی ہے۔ ماں کا دودھ اب شیرخواروں کو کم کم ہی نصیب ہورہا ہیے ؟ لگتا ہیے اسکی جگہ ’امول دودھ، نپل اور بوتل‘ نے لے لی ہے۔ نتیجہ ؟ غیر صحت مند بچوں کی پرورش۔ چار پانچ سال کی عمر کے بچوں کی آنکھھوں پر بھی اب نمبر کے چشمے نظر آنے لگے ہیں۔ وجہ ؟ سرکاری اسکول اب بہتر ہونے لگے ہیں ۔ نام نہاد پرائیوٹ اسکولوں کا اب نام بڑا درشن چھوٹے والا حساب ہوگیا ہے۔