نئی دہلی، 31مئی (یو این آئی) کرنم ملیشوری نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور سخت محنت کے ذریعے خود کو ایک مکمل اور شاندار ویٹ لفٹر ثابت کیا ۔ ’صنف آہن‘ کرنم ملیشوری اپنی کامیابیوں اور صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے کھیلوں کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے ۔ وہ آندھرا پردیش میں سریکاکولم کے قریب ووسوانی پیٹا نامی گاؤں میں یکم جون 1975 کو پیدا ہوئیں۔ ملیشوری محض 15برس کی تھی تو انہوں نے 50کلوگرام زمرے میں 140کلو وزن اٹھا کر تین قومی ریکارڈ بنائے۔ 1991، 1992اور 1993 میں انہوں نے نیشنل اور ایشیائی ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں چار چاندی کے تمغے جیت کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔ ملیشوری نے اپنے کیریئر کا آغاز جونیئر ویٹ لفٹنگ چمپئن شپ سے کیا۔ انہوں نے وہاں نمبر ایک پوزیشن حاصل کی۔ملیشوری نے 1992 کی ایشیائی چمپئن شپ میں تین چاندی کے تمغے جیتے۔ویسے ، انہوں نے ورلڈ چمپئن شپ میں 3 کانسہ کے تمغے اپنے نام کیے لیکن ان کی سب سے بڑی فتح 2000 میں سڈنی اولمپکس ہے جہاں انہوں نے برونز میڈل جیتا اور اسی کے ساتھ وہ اولمپک تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون ویٹ لفٹر بنیں۔ کرنم نے پیشہ ور ویٹ لفٹر راجیش تیاگی سے شادی کی۔ ملیشوری نے 2001 میں ایک بیٹے کو جنم دیا۔ 2002میں اپنے والد کی موت کی وجہ سے انہیں کامن ویلتھ گیمز سے محروم ہونا پڑا۔ انہوں نے 2004کے اولمپکس میں حصہ لیا لیکن ٹورنامنٹ میں کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے اولمپکس کے بعد ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا اور نوجوان لفٹرز کو تربیت دے کر اس کھیل میں اہم تعاون دیا۔ کرنم ملیشوری کو 1994میں ارجن ایوارڈسے نوازا گیا۔ 1995میں راجیو گاندھی کھیل رتن سے نوازا گیا ۔ 1999میں انہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔