آئمہ و مؤذنین اعزازیہ کے بقایہ جات کی جلد اجرائی

   

Ferty9 Clinic


صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا تیقن،میریج کونسلنگ سنٹر کیلئے حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد: صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ آئمہ و مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے بقایہ جات جلد جاری کئے جائیں گے ۔ شہر سے تعلق رکھنے والے آئمہ و مؤذنین کے وفد نے آج محمد سلیم سے ملاقات کی اور شکایت کی کہ گزشتہ چار ماہ سے اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ مالی مسائل کا شکار ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعزازیہ کے سلسلہ میں فنڈس جاری کیا گیا ہے اور جلد تمام بقایہ جات کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئمہ و مؤذنین کے معاشی استحکام کیلئے اعزازیہ کی اسکیم متعارف کی ہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ تلنگانہ حکومت نے یہ اسکیم شروع کی جسے دیگر ریاستوں کی جانب سے اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تمام اہل آئمہ و مؤذنین کو اعزازیہ کی منظوری کی اجازت دی ہے۔ اسی دوران حج ہاؤز میں قائم کردہ میریج کونسلنگ سنٹر کے ذمہ داروں نے محمد سلیم سے ملاقات کی۔ ریٹائرڈ جج ای اسماعیل ، مفتی صادق محی الدین اور دوسروں نے صدرنشین وقف بورڈ کو بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 6 سال قبل کونسلنگ سنٹر قائم کیا گیا ۔ اس کے ذریعہ ازدواجی اختلافی مسائل کی کامیابی کے ساتھ یکسوئی کی جارہی ہے۔ پولیس اور عدالتوں سے بچانے یہ سنٹر قائم کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 6 ارکان باقاعدگی کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کونسلنگ سنٹر کو کوئی امداد نہیں دی جاتی۔ ای اسماعیل نے کونسلنگ سنٹر صدرنشین کو جوڈیشل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کو اعزازیہ اور اسٹاف کے تقررات کئے جائیں تاکہ کونسلنگ سنٹر بہتر انداز میں کام کرسکے ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے محکمہ اقلیتی بہبود سے نمائندگی کا تیقن دیا اور کہا کہ کونسلنگ سنٹر محکمہ کی جانب سے قائم کیا گیا ہے ، لہذا اختیارات اور اعزازیہ کے سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود سے نمائندگی کی جائے گی۔