آئندہ انتخابات میںنئے چہروں کو موقع دینے کے سی آر کا غور

   

موجودہ ارکان کی بڑی تعداد کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ مخالف حکومت لہر سے نمٹنے اقدامات

حیدرآباد۔26ڈسمبر(سیاست نیوز) پارٹی ارکان اسمبلی اور حکومت کے خلاف منفی لہر سے نمٹنے تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مخالف حکومت عوامی لہر کے اثرات آئندہ انتخابات پر نہ ہوں اس کیلئے بڑی تعداد میں موجودہ ارکان اسمبلی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی میں بڑی تعداد کو آئندہ انتخابات کے دوران ٹکٹ کے امکانات موہوم ہیں جو تشکیل تلنگانہ کے بعد سے دونوں بار انتخابات میں منتخب ہوچکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کی جانب سے مخالف حکومت لہر کو روکنے نئے چہروں کو عوام کے درمیان لانے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے لیکن انہیں سیاسی مشیروں کی جانب سے مشورہ دیا جا رہاہے کہ وہ نئے چہروں کو میدان میں لانے کے منصوبہ پر مجوزہ انتخابات میں عمل نہ کریں کیونکہ بی جے پی کی جانب سے پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں کامیاب ثابت ہوسکتی ہیں ۔ کے سی آر کا ماننا ہے کہ اگر مسلسل تیسری مرتبہ ان ارکان کو امیدوار بنایاجاتا ہے جو سابق میں کارکردگی کا بہتر ریکارڈ نہیں رکھتے ہیں تو عوامی ناراضگی کو دور نہیں کیاجاسکتا اور عوامی ناراضگی کی بنیاد پر جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کربھی لیتے ہیں تو اس کا پارٹی کو نقصان نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس نے انتخابی حکمت عملی کی تیاری شروع کردی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ ان ارکان کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کے سی آر کی جانب سے ہی کیا جائے گا ۔ بتایاجاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ اپنے اضلاع کے دورے کے بعد قطعی فیصلہ کریں گے ۔ بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے آپریشن آکرش پر بھی ٹی آر ایس نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ برسر اقتدار پارٹی میں ایسے کون قائدین ہیں جو بدعنوانیوں اور مخالف عوام اقدامات کے سبب عوام سے دور ہیں اور اب پارٹی فیصلوں کے سبب بی جے پی سے رابطہ میں رہ کر سیاسی مستقبل کو تابناک بنائے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کے علاوہ سماجی مساوات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے بی جے پی کو روکنے کی حکمت عملی میں مصروف ہیں۔م