صرف 100 مہمانوں کی اجازت دینے کی حکمت عملی ، بڑے شادی خانوں کے شادیاں ملتوی
حیدرآباد۔یکم۔مئی(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی شادیوں کی دھوم دھام اور چکا چوند کی واپسی آئندہ 2برس تک ممکن نہیں ہے! جی ہاں ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی منصوبہ بندی کے مطابق لاک ڈاؤن کے بتدریج خاتمہ کے ساتھ شادی بیاہ کی تقاریب میں 100 مہمانو ںسے زیادہ کی اجازت نہ دئیے جانے کے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور اس کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے مہمانوں کی حد مقرر کرنے کے سلسلہ میں احکام کی اجرائی کے متعلق غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی گنجائش فراہم کی جائے گی اور کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بتدریج فراہم کی جانے والی راحتوں میں ٹیکسی میں دو افراد کے سفر کی اجازت اور اس جیسے کئی فیصلہ کئے جانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق شہر حیدرآباد میں شادیوں میں جو چکا چوند ہوا کرتی تھی اس کی واپسی کے لئے کافی وقت درکار ہوسکتا ہے
کیونکہ حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی تحدیدات کے خاتمہ تک حالات کے معمول پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے اور جن حالات کا سامنا عوام کو کرنا پڑرہا ہے ان حالات میں عوام کے پاس بھی کوئی وافر دولت موجود نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے ساتھ ہی وہ شادیوں پر کئے جانے والے اخراجات کا آغاز کردیں گے۔ شادی خانوں کے مالکین کا کہناہے کہ شہرحیدرآباد کے کئی علاقوں میں موجود بڑے بڑے شادی خانوں میں ماہ رمضان المبار ک کے بعد کی تاریخوں کی جو بکنگ ہیں وہ بھی اب منسوخ یا ملتوی کی جانے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان حالات میں ان شادی خانوں کی مانگ میں بھی زبردست کمی واقع ہوگی۔ حکومت کی جانب سے شادی بیاہ کی کی تقاریب میں مہمانوں کی حد مقرر کرنے کے احکامات کی صورت میں بھی بڑے شادی خانوں کی مانگ میں کمی ریکارڈ کی جائے گی کیونکہ جب مہمانوں کی تعداد کم ہوگی تو بڑے شادی خانوں کے حصول کا رجحان تیزی سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ اسی طرح شادی خانہ کے ساتھ ساتھ کیٹرنگ خدمات کے کاروبار پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگیں گے
اور شادی بیاہ کی تقاریب مہمانوں کی تعداد کو محدود کئے جانے کی صورت میں ہوٹلوں میں منعقد ہونے لگیں گی کیونکہ ہوٹلوں میں150 تا 200 افراد کیلئے طعام کے انتظام کی صورت میں ہال مفت حاصل ہوجاتا ہے اور لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے ساتھ حالات تیزی سے تبدیل ہوتے چلے جائیں گے اور شہریوں میں کفایت شعاری کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا جو کہ ان کے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔ شادی بیاہ کی تقاریب کو سادگی سے انجام دینے کے رجحان میں اضافہ کے نتیجہ میں امت مسلمہ کے کروڑہا روپئے کی بچت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور شادی بیاہ پر خرچ کی جانے والی کروڑہا روپئے کی یہ رقومات امت کا متمول طبقہ قوم کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کرسکتا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق ہی ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے ہجوم کے جمع ہونے کی اجازت فراہم کرے گا اور بتایاجاتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے آئندہ دو برسوں کے دوران کسی قسم کے اجتماعات اور ہجوم کی اجازت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا اور ٹیکہ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی اجتماعات کے متعلق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے غور کیا جائے گا۔