آخری بات یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسل کی حفاظت کیجیے مکتب قائم کیجیے، دینی تعلیم کو رواج دیجیے، قریب مدرسہ ہے، وہاں اپنے بچوں کو بھیجئے کہ محلہ ہے محلہ کے بچے، برادری ہے برادری کے بچے اور وہ اس قابل ہو جائیں کہ قرآن کو پڑھنے لگیں گے، دینی کتابوں کو سمجھنے لگیں گے، عقائد وفرائض اور احکام سے واقف ہو جائیں گے تب ہی مسلمان رہ سکیں گے۔
اس وقت بہت خطرناک منصوبہ چل رہا ہے، مسلمانوں کے ذہنوں سے، جن کو اللہ نے اولاد دی ہے یا جن کے زیر اثر ایک نئی نسل ہے، انہیں بالکل اس کی فکر نہ رہے، ان کا عقیدہ کیا ہوگا، کس شریعت کو مانیں گے، پیغمبر کو مانیں گے، اس کے حکموں کو مانیں گے، اس کی پیروی کریں گے، دیندار بنیں گے، اللہ کو راضی کرنے اور ناراض کرنے کا فرق پہچانیں گے یا نہیں، تو آپ کے لیے فرض ہے اور ساری چیزوں سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ مکتب قائم کریں، مدرسہ قائم کریں، اور گھر میں بھی ایسا ماحول بنائیں، بیبیوں سے کہہ دیجیے، خواتین، مستورات سے کہہ دیجیے کہ گھر میں دینی باتیں کیا کریں، بچوں کو انبیاء کے قصے، صحابہ کے واقعات، صلحاء کی حکایات بیان کیا کریں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنائیں کہ انہوں نے توحید کا کیا نمونہ پیش کیا، اور کس طرح سے بتادیا کہ جن کو آپ لوگ پوجتے ہیں، ان کے قبضہ میں کچھ نہیں ہے، جن کی آپ پرستش کرتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے، میں نے ان کے ساتھ کیا کیا، وہ اپنے کو بھی نہیں بچا سکے تو آپ کو وہ کیا بچائیں گے؟ انبیاء علیہم السلام کے قصے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسی علیہ السلام اور پھر سرور کائنات حضور صلى الله عليه وسلم کے قصے سنانا اور ان سے واقف کرانا اور محبت پیدا کرنا۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
(سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
پیشکش: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
