آئندہ پانچ سال میں کرانہ اور جنرل اسٹورس سے خریداری میں گراوٹ

   

آن لائن اور ہوم ڈیلیوری کے رجحان میں اضافہ ، سرکردہ کمپنیوں کا احساس
حیدرآباد۔28جنوری(سیاست نیوز) آئندہ 5برسوں کے دوران روایتی کرانہ اور جنرل اسٹورس سے خریداری میں 20 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی اور آن لائن خریدی کے علاوہ ڈرون ڈیلیوری و دیگر سہولتوں سے لوگ استفادہ حاصل کرنے لگیں گے بلکہ محلہ جات میں موجود کرانہ و جنرل اسٹور بھی ڈیلیوری کی سہولت فراہم کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے تاکہ اپنے گاہکوں کو محفوظ رکھ سکیں لیکن اس کے باوجود بھی آن لائن خریدی کے رجحان میں مختلف ایپلیکشن اور کارپوریٹ کمپنیوں کی جانب سے دی جانے والی ترغیبات کے سبب اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ملک میں آن لائن خریداری کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کا سروے کرنے والی ایک کمپنی کے مطابق 2025 تک ملک بھر کے شہری علاقوں میں آن لائن خریداری میں 30تا35 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا جس کی وجہ سے روایتی انداز میں دکانات اور سوپر مارکٹس کے علاوہ ہائپرمارکٹس سے خریداری کرنے والوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ سروے کے دوران لگائے گئے تخمینہ کے مطابق 20 فیصد سوپر مارکٹس اورچلر فروشی کے کاروبار شدید متاثر ہوجائیں گے کیونکہ شہریوں کو گھر بیٹھے آرڈر اور اپنے اشیائے ضروریہ وصول کرنے کی سہولت سے استفادہ کی عادت ہو جائے گی۔ سرکردہ کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ سالانہ اشیائے ضروریہ کی فروخت میں 6تا7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جا تا ہے اور 2025 تک بھی یہی سلسلہ برقراررہے گا لیکن 35تا40 کاروبار آن لائن شروع ہوجائے گا جس کے نتیجہ میں روایتی انداز خرید وفروخت متاثر ہوگا۔سروے کے مطابق ملک بھر میں فی الحال 60 فیصد شہری آن لائن اشیائے ضروریہ کی خریدی انجام دے رہے ہیں جبکہ 68 فیصد صارفین تمام اشیاء آن لائن منگوا رہے ہیںاور توقع ہے کہ اشیائے ضروریہ گھر بیٹھے آرڈر کرنے والوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔آن لائن تجارت کوفروغ دینے والی کمپنیوں کا کہناہے کہ آن لائن ترغیبات اور موبائیل کے استعمال کے کلچر کے عام ہونے کے سبب شہری علاقوں میں رہنے والوں کے علاوہ آئی ٹی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والوں کی جانب سے خریداری کی جا تی تھی لیکن اب عام شہریوں کی جانب سے بھی خریداری آن لائن کی جانے لگی ہے۔م