آئین کو بچانے کرناٹک میں کانگریس کا ’راج بھون چلو‘ مارچ

   

گورنر تھاور چند گہلوت بی جے پی کی کٹھ پتلی‘ پریانک کھرگے کا الزام

بنگلورو: کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت اور کانگریس حکومت کے درمیان ز بردست کشیدگی جاری ہے۔ کانگریس نے گورنر کے خلاف احتجاج کے لیے ہفتہ کو ’راج بھون چلو‘ کا اہتمام کیا۔ کانگریس لیڈر پریانک کھڑگے نے کہا ہے کہ یہ مارچ آئین کو بچانے کیلئے نکالا جا رہا ہے۔ بہت سی چیزیں غیر آئینی طریقہ سے ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ راج بھون کا استعمال مرکز کے اشاروں پر کیا جا رہا ہے۔ گورنر بی جے پی کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدارمیا کے خلاف مقدمہ چلانے میں اتنی جلدی کیوں ہے؟ سدارمیا کے معاملے میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کسنے کیا تھا۔ ایک آر ٹی آئی کارکن نے پوچھا کہ کیا تفتیش مکمل ہو چکی ہے، کیا اسے کسی اور ایجنسی نے سپورٹ کیا ہے، ایسا نہیں ہوا ۔ یہ گورنر کی میز پر سڑ رہا ہے۔ گورنر ان 4تا5 لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے یا اس کی منظوری دینے میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہے؟خیال رہے کہ کانگریس کے زیراہتمام منعقد ہونے والے اس مارچ میں کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے، ایم ایل سی اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ سب نے اسمبلی کے باہر گاندھی مجسمہ کے سامنے متحد ہو کر احتجاج کیااور راج بھون کی طرف مارچ شروع کر دیا۔کرناٹک کانگریس کے لیڈر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ کئی مرتبہ احتجاج کے باوجود گورنر نے اپنا موقف نہیں بدلا۔ چنانچہ آخر کار تمام ایم ایل اے اور ایم پیز نے احتجاجاً گورنر ہاؤس جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ متعصبانہ انداز میں کام کر رہے ہیں اور ریاست کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف بی جے پی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم احتجاج کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ ایک کارکن نے گورنر سے میسور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم یو ڈی اے) اراضی الاٹمنٹ معاملے میں چیف منسٹر سدارمیا کے خلاف شکایت درج کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایک آر ٹی آئی کارکن کی شکایت کی بنیاد پر گورنر نے سدارمیا کے خلاف مقدمہ شروع کرنے کی منظوری دی۔قابل ذکر ہے کہ میسور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسکام کا معاملہ تقریباً 5000 کروڑ روپے کا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارمیا کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی بیوی پاروتی کو میسور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مڈا) میں ایک گھوٹالے سے فائدہ ہوا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ سدارمیا کی اہلیہ کو شہر کے ایک دور دراز علاقے میں 3.40 ایکڑ اراضی کے حصول کے بدلے متبادل پلاٹ دیا گیا تھا۔ اس زمین کی مارکیٹ قیمت ان کی اپنی زمین سے زیادہ ہے۔