آئین کی جگہ بلڈوزر اور انصاف کی جگہ خوف نے لے لی :راہول

,

   

2014 کے بعد ’’موب لنچنگ،بلڈوزر اِنصاف، اور ہجوم کا نظام ہمارے دور کی خوفناک پہچان بن گئے
نئی دہلی۔ 7 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے اپنے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی میں ایک دلت شخص کے قتل کے واقعہ پر منگل کو الزام عائد کیا کہ تشدد اور ہجوم کے ذریعہ انصاف کے نظام کو اقتدار کا تحفظ حاصل ہے، جہاں آئین کی جگہ بلڈوزر نے اور انصاف کی جگہ خوف نے لے لی ہے۔انہوں نے کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں دلت شخص ہری اوم والمیکی کے قتل کو ’’آئین کے خلاف سنگین جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2014 کے بعد سے ’’موب لنچنگ‘‘، ’’بلڈوزر اِنصاف‘‘ اور ’’ہجوم کا نظام‘‘ ہمارے دور کی خوفناک پہچان بن چکے ہیں۔راہول گاندھی نے یہ مشترکہ بیان ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ رائے بریلی میں دلت نوجوان ہری اوم والمیکی کا بیرحمانہ قتل صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ انسانیت، آئین اور انصاف کا قتل ہے۔ آج ہندوستان میں دلت، آدی واسی، مسلمان، پسماندہ اور غریب ہر اُس شخص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی آواز کمزور ہے، جس کا حق چھینا جا رہا ہے اور جس کی زندگی کو سستا سمجھا جاتا ہے۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں نفرت، تشدد اور ہجوم کے نظام کو حکومت کا تحفظ حاصل ہے، جہاں آئین کی جگہ بلڈوزر نے اور انصاف کی جگہ خوف نے لے لی ہے۔ سابق کانگریس صدر نے کہا کہ میں ہری اوم کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ انہیں انصاف ضرور ملے گا۔ہندوستان کا مستقبل مساوات اور انسانیت پر قائم ہے، اور یہ ملک چلے گا آئین سے، بھیڑ کی من مانی سے نہیں۔ کانگریس کے دونوں سرکردہ رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہہمارے ملک میں ایک آئین ہے جو ہر انسان کو مساوات کی بنیاد پر تسلیم کرتا ہے۔ ایک قانون ہے جو ہر شہری کی سلامتی، اس کے حقوق اور اس کی اظہارِ رائے کو برابر کا درجہ دیتا ہے۔ جو کچھ رائے بریلی میں ہوا، وہ اس ملک کے آئین کے خلاف سنگین جرم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دلت برادری کے خلاف جرائم اس ملک اور سماج پر بدنما داغ ہیں۔ کھڑگے اور راہول گاندھی نے کہا کہ ملک میں دلتوں، اقلیتوں اور غریبوں پر جرائم کی تعداد بیحد بڑھ چکی ہے۔ یہ تشدد سب سے زیادہ انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو محروم ہیں، جن کی نمائندگی اور حصہ داری ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ہاتھرس اور اوناو میں خواتین کے خلاف جرائم ہوں، رائے بریلی میں ہری اوم کا قتل، یا کچھ عرصہ پہلے روہت ویمولا کی ادارہ جاتی موت، مدھیہ پردیش میں ایک لیڈر کی جانب سے آدی واسی نوجوان پر پیشاب کرنے کا غیرانسانی واقعہ، اوڈیشہ اور مدھیہ پردیش میں دلتوں کی وحشیانہ پٹائی، یا پھر ہریانہ کے پہلو خان اور اترپردیش کے اخلاق کا قتل ہر واقعہ ہمارے سماج، انتظامیہ اور حکمراں طاقتوں کی بڑھتی ہوئی بیحسی کا آئینہ ہے۔ کانگریس رہنماؤں کے مطابق، 2014 کے بعد سے ’موب لنچنگ‘، ’بلڈوزر انصاف‘ اور ’ہجوم کے نظام‘ جیسی رجحانات ہمارے زمانے کی ہولناک شناخت بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کسی مہذب سماج کی علامت نہیں ہو سکتی، اس لیے ہری اوم کے ساتھ جو ہوا وہ ہماری اجتماعی اخلاقیات پر ایک گہرا سوال ہے۔
کھڑگے اور راہول گاندھی نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے خوابوں کا بھارت اور مہاتما گاندھی کے ’وَیشنو جن‘ کا بھارت، سماجی انصاف، مساوات اور حساسیت کا بھارت ہے، جہاں ایسے جرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انسانیت ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس پارٹی سماج کے محروم اور کمزور طبقات کے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف متحد ہوں۔ یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک ہر بھارتی شہری کے حقوق اور زندگی کی عزت کو مکمل تحفظ نہیں مل جاتا۔